ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ جب بندہ نا فرمانی کرتا ہے تو آسمان کہتا ہے کہ میں اس پر گر جاؤں زمین کہتی ہے کہ میں اس کو نگل جاؤں فرشتے کہتے ہیں کہ ہم اس کو ہلاک کر دیں حق تعالٰی فرماتے ہیں کہ تم نے اس کو بنایا نہیں اس وجہ سے ایسا کہتے ہو میں نے بنایا ہے اس کی قدر میں جانتا ہوں کس قدر رحمت ہے اور اپنے بندوں سے کس قدر محبت ہے میں نے تو ایک مرتبہ اس سے استنباط کر کے دوستوں سے کہا بھی تھا کہ عنداللہ اپنے محبوب ہونے کا مراقبہ کیا کرو اس سے بڑا نفع ہوگا کیونکہ اس کی خاصیت ہے کہ اللہ تعالٰی کی محبت تمہارے دل میں پیدا ہو جائے گی پھر یہی مراقبہ میں نے ایک کتاب میں بھی دیکھا ایک بزرگ نے بھی یہی لکھا ہے اس وقت دیکھ کر بڑا جی خوش ہوا کہ جو چیز قلب میں آتی ہے الحمدللہ اس کی تائید بزرگوں سے بھی نکل آتی ہے میں اتنی قید اس مراقبہ میں اور لگایا کرتا ہوں کہ صاحب مراقبہ شریف طبیعت کا ہونا ورنہ برا اثر قبول کرے گا کہ عجب و دلال ( ناز ) اور تعطل پیدا ہو جائے گا ـ
