ایک دیہاتی شخص نے عرض کیا کہ حضرت ایک تعویز دے دو میرا بھائی مجھ سے ناراض ہو کر جدا ہو گیا ہے ـ وہ مجھ سے محبت کرنے لگے فرمایا کہ الگ ہو گیا ہے ـ ہو جائے ـ جانے دو تمھارا کیا ضرر ہے ـ آجکل تو ایک جگہ رہنا فساد کی بات ہے ـ الگ ہی الگ رہنا مصلحت ہے ـ اس سے محبت بنی رہتی ہے ـ اور ساتھ رہنے میں محبت جاتی رہتی ہے ـ یہ الگ ہو جانا تو شکایت کرنے کی بات نہیں بلکہ خود الگ کر دینا چاہئے تھا ـ پھر اس میں تعویز سے کیا کام چلے گا ـ ایسی باتوں کے لئے تعویز نہیں ہوتا تم اپنا کھاؤ کماؤ وہ اپنا کیوں دوسروں کے غم میں پڑے مسلمان کا تو یہ مذہب ہونا چاہئے ـ
بہشت آنجا کہ آزا رے نباشد کسے رابا کسے کارے نباشد
