( ملفوظ 288)آج کل الگ الگ رہنا مصلحت ہے

ایک دیہاتی شخص نے عرض کیا کہ حضرت ایک تعویز دے دو میرا بھائی مجھ سے ناراض ہو کر جدا ہو گیا ہے ـ وہ مجھ سے محبت کرنے لگے فرمایا کہ الگ ہو گیا ہے ـ ہو جائے ـ جانے دو تمھارا کیا ضرر ہے ـ آجکل تو ایک جگہ رہنا فساد کی بات ہے ـ الگ ہی الگ رہنا مصلحت ہے ـ اس سے محبت بنی رہتی ہے ـ اور ساتھ رہنے میں محبت جاتی رہتی ہے ـ یہ الگ ہو جانا تو شکایت کرنے کی بات نہیں بلکہ خود الگ کر دینا چاہئے تھا ـ پھر اس میں تعویز سے کیا کام چلے گا ـ ایسی باتوں کے لئے تعویز نہیں ہوتا تم اپنا کھاؤ کماؤ وہ اپنا کیوں دوسروں کے غم میں پڑے مسلمان کا تو یہ مذہب ہونا چاہئے ـ
بہشت آنجا کہ آزا رے نباشد کسے رابا کسے کارے نباشد