( ملفوظ 289) تعویزات میں عامل کے خیال کا اثر ہوتا ہے :

ایک شخص نے تعویز کی درخواست کی کہ حضرت جی ایک عورت کو تکلیف ہے ـ تعویز دو ـ یہ کہہ کر خاموش ہو گیا ( اور تکلیف کا نام نہیں لیا ) حضرت والا نے فرمایا نواب بن کے آیا ہے ادھوری بات کہہ کر خاموش ہو گیا پوری بات کہو جب تک پوری بات نہیں کہے گا جواب کیا دیا جائے ـ عرض کیا کہ اوپر اثر ہے فرمایا اس پر تو ہے یا نہیں مگر تو بھی اسی مرض میں مبتلا ہے ـ پہلے ہی پوری بات کیوں نہیں کی تھی ـ جا اب تو دل برا کر دیا ـ پھر تھوڑی دیر میں پوری بات کہنا تعویز مل جائے گا ـ وہ شخص اٹھ کر چلا گیا ـ فرمایا کہ تعویز وغیرہ میں زیادہ تر عامل کے خیال کا اثر ہوتا ہے اگر اس کو مکدر کر دیا جائے تو پھر اس میں اثر نہیں ہوتا ـ ہر فن کے کچھ خاص احکام ہیں ـ فن عملیات کا یہی حکم ہے ـ اس لئے ضرورت ہے کہ عامل کو مکدر نہ کرو اور یہ جو میں کہہ دیتا ہوں کہ پھر آکر پوری بات کہو ـ اس میں علاوہ اس حکم مذکور کے یہ بھی مصلحت ہے کہ اس کو اپنی غلطی معلوم ہو جائے ـ اور یاد رہے اور آئندہ پھر ایسی حرکت نہ کرے ـ بس یہی وہ باتیں ہیں جن پر مجھ کو بدنام کیا جاتا ہے ـ