ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ الحمدللہ میرے ذہن میں کبھی یہ بات نہیں آئی کہ لوگوں کو اپنے ساتھ مربوط رکھا جائے جو اپنا طرز ہے کھلم کھلا ہے اب کیا اپنا طرز بدلیں گے اور طبعی بات کیسے بدل سکتی ہے ـ اپنا تو یہ مشرب اور مسلک ہے ـ
ہر کہ خواہد گو بیاؤ ہر کہ خواہد گوبرو دار گیر و صاحب ودربان دریں درگاہ نیست
( جسکا جی چاہے آوے اور جسکا جی چاہے چلا جاوے اس دربار میں کسی کی دارو گیر نہیں ہے )
اور حضرت یہ مربوط رکھنا تو ایک مستقل شغل ہے کہ وہ چلا نہ جاوے وہ ناراض نہ ہو جاوے استغفراللہ پھر فطریات کے بدل سکنے کے سلسلہ میں فرمایا کہ اگر کوئی فطری بات ہے تو اس کے بدلنے کی کوشش کرنا بے ادبی ہے گویا دوسری عبارت میں قدرت کا مقابلہ ہے اور قدرتی طور پر اس میں حکمتیں بھی ہیں ـ جیسے بخل ہے ـ طمع ہے تو ان میں جہاں تک فطری درجہ ہے وہ مصالح کے سبب خود مطلوب ہے چناچہ بدون اس فطری درجہ کے بعض ضروری انتظام نہیں ہو سکتا اس لئے ایسے درجہ کی ضرورت ہے تاکہ انتظام کر سکے ـ البتہ جو درجہ فطرت سے زائد کسی عارض کے سبب پیدا ہو گیا ہے ـ اس کے تبدیل بدرجہ تعدیل کی ضرورت ہے اور اسی تفصیل کے نا جاننے سے بعض لوگوں کو دھوکہ ہو گیا ہے کہ تہذیب اخلاق کی کوشش کرنا بے کار ہے ـ کیونکہ اخلاق فطری ہے مگر محققین نے وہی جواب دیا ہے ـ جو میں نے ابھی عرض کیا ہے جو درجہ فطری ہے وہ اعتدال کے خلاف نہیں ہے ـ اس میں حکمتیں ہیں کہ وہ بعض مقاصد کا معین ہے میرا بڑا جی خوش ہوا ـ جس روز یہ بات سمجھ میں آئی ـ
