( ملفوظ 529)نماز اشراق کے لئے ایک جگہ بیٹھے رہنے کی حکمت

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ حضور کی تعلیمات میں جو نور ہے سبحان اللہ اس کا کیا کہنا ہے فرماتے ہیں کہ اگر نماز فجر پڑھ کر ضحیٰ یعنی اشراق کی نماز اسی جگہ بیٹھا رہے پھر اشراق پڑھ لے تو پورے ایک حج کا در عمرہ ثواب ملے گا ( جمع الفوائد ، سو مشاہدہ ہے کہ جو نور اور بشاشت و انبساط جگہ نہ بدلنے پر ہوتا ہے وہ جگہ پر بدلنے پر نہیں ہوتا صوفیہ نے اسی مشاہدہ سے کہا ہے کہ جس قدر : کر ایک نشت میں ہو سکے زیادہ بہتر ہے اس میں خاص برکت ہوتی ہے ایک دوسری تعلیم لیجئے ـ تاخیر سحر اور تعجیل افطار کو اسی واسطے مشروع کیا ہے کہ روزہ کی ابتداء اور انتہا معلوم ہو جائے صوم وغیرہ صوم میں خلط نہ ہو اسی لئے صوم وصال کی مانعت آئی ہے اور میں چاہے ایک ہی کھجور کھا لے اسی سے فرق تو معلوم ہو جائے گا سو حضور نے حدود کی رعایت فرمائی ہے ورنہ کبھی ضرور ایسا ہو جاتا ہے اور یہ کچھ نہ تھا کہ سحر و افطار نہ ہونے سے لوگ سمجھتے کہ عشاء کے وقت سے روزہ شروع ہو جاتا ہے اور عشاء کے وقت ختم ہو جاتا ہے ـ