(ملفوظ 167)آداب الفقیر :

(ملقب بہ آداب الفقیر ) ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اگر انسان میں عبدیت پیدا ہوجائے تووہ انسان ہے ورنہ حیوان سے بھی بدتر ہے ، بل ھم اضل ( بلکہ وہ زیادہ گمراہ ہیں ) میں اس کی تصریح ہے اسی کے متعلق مولانا رومی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں
گر بصورت آدمی انسان بدے احمد و بو جہل ہم یکساں بدے
( اگر ظاہری صورت سے آدمی انسان بن جاتا تو حضوراقدس ﷺ اور ابوجہل یکساں ہوتے ۔ 12) انسانیت حقیقی یہی ہے عبدیت ہو فنا ہو افتقار ہو انکسار ہو عجزہو کیونکہ یہ سبعلامت ہیں عبد کامل کی اگراس راہ میں چل کربھی یہ باتیں نہ پیدا ہوئیں تو سمجھ لینا چاہئے کہ وہ بالکل محروم اور ناکام ہے کیونکہ محض ظاہری صورت اورلحم وپوست کو آدمیت سے کیا تعلق اس کے متعلق بھی مولانا رومی رحمہ اللہ فرماتے ہیں
آدمیت لحم وشحم و پوست نیست آدمیت جز رضائے دوست نیست
(انسانیت گوشت اورچربی کا نام نہیں ہے ، انسانیت کی حقیقت یہ ہے اس کو حق تعالیٰ کی رضا حاصل ہو ۔ 12)
غرض عبدیت بڑی چیز ہے جس میں بعض آثاریہ ہیں کہ بعض مرتبہ جس وقت عبدیت کا غلبہ ہوتا ہے اس وقت کسی چیز کو اپنی طرف منسوب کرتے ہوئے بھی غیرت معلوم ہوتی ہے اس لیے کہ اس نسبت میں ظاہرا دعوے کی سی شان معلوم ہوتی ہے اسی عبدیت کی بدولت فنا وافتقارو انکسار وعجزپیدا ہوتا ہے اور ہروقت اس کے اندر ایک احتیاج کی سی کیفیت غالب رہتی ہے جوعین مقصود اور مطلوب ہے شیخ اسی کیفیت کے پیدا کرنے کی طالب کے اندر کوشش کرتا ہے تاکہ اس کے اندر سے دعوے کی سی شان جاتی رہے کیونکہ تجربہ ہے کہ بدوں مؤثر کے اثر میں استحکام نہیں ہوتا جس کی ایک نظیر یاد آئی کہ ایک مرتبہ حضرت حاجی رحمہ اللہ سے حضرت مولانا محمد قاسم صاحب رحمہ اللہ نے سوال کیا کہ حضرت میرا ارادہ ہے کہ میں نوکری چھوڑدوں اگر اجازت ہوحاصل یہ تھا توکل اختیار کروں اس وقت حضرت مولانا مطبع مجتبائی میرٹھ میں دس روپیہ کے ملازم تھے اب دیکھئے حضرت حاجی رحمہ اللہ کیا جواب فرماتے ہیں کہ مولانا یہ پوچھنا خود دلیل ہے تردد کیا ورتردد دلیل ہے خامی کی اور خامی کی حالت میں ترک اسباب کرنا موجب تشویش ہوگا اور جب پختگی کی حالت پیدا ہوجائیگی تواس وقت پوچھنا تو درکنار اگر کوئی تم کو روکے گا بھی تب بھی رسے توڑا کربھاگو گے اسی طرح یہاں سمجھ لیجئے کہ شیخ اسی استحکام آثارکے لئے عبدیت کے راسخ کرنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ اس سے آثار میں استحکام ہوورنہ بدوں کیفیت کے رسوخ کے گاڑی چلنا مشکل ہوتا ہے اس کی ایسی مثال ہے کہ ایک صورت تویہ ہے کہ انجن کے ذریعہ سے گاڑی چلتی ہے اور دوسری صورت یہ ہے کہ کبھی اسٹیشن پردیکھا ہوکہ مال وغیرہ کے ڈبوں کومزدور لائن پردھکیلتے ہیں تو فقدان کیفیت کی مثال مزدور جیسی اور کیفیت پیدا ہوجانے کی مثال انجن جیسی ہے بس شیخ اسی کی کوشش کرتا ہے اور شیخ وطالب میں مناسبت کی اورمناسبت کی عقلا دوصورتیں ہوسکتی ہے ۔
ایک شیخ کو طالب کےمقام پرتنزل کرنا دوسرے طالب کو اپنے مقام پرلے جانا اول میں شیخ کو مشقت ہوتی ہے اور طالب کو سہولت اور ثانی میں بالعکس مگرشیخ کی سفقت وکمال کا مقتضا پہلی صورت ہے اس لئے وہ اس کو اختیار کرتا ہے پس شیخ کے لیے وہ وقت جبکہ وہ طالب کے مقام کی طرف نزول کرتا ہے بہت سخت ہوتا ہے پس شیخ کے لئے وہ وقت جبکہ وہ طالب کے مقام کی طرف نزول کرتا ہے بہت سخت ہوتا ہے اور انبیاء علیہم السلام کا نزول اس سے بھی سخت ہوتا ہے کیونکہ بوجہ بون بعید (بہت زیادہ فرق ہونے ) کے ان کو زیادہ تنزل کرنا پڑتا ہے خصوص حضور ﷺ کا نزول ) پھر جبکہ مخاطب اس نزول کی قدر بھی نہ کرے تو وہ اس عارض کی وجہ سے اور بھی سخت ہوجاتا ہے اسی لیے حضورﷺ فرماتے ہیں کہ مجھ کو سب انبیاء سے زائد اذبت ہوئی ہے اور یہ مشقت اس پرہے کہ انبیاء علیہم السلام کا فطری امرتھا تسہیل الصعاب ( دشواریوں کوآسان کردینا ) ورنہ دشواری کی کوئی حد ہی نہ رہتی ، توشیخ کا بڑا ہی کما ل ہے کہ طالب کے مقام پرنزول کرکے آتا ہے طالب کواپنے درجہ پر نہیں لے جاتا جیسے ایک طالبعلم میزان پڑھتا ہے اورایک بہت بڑا علامہ اس کو پڑھاتا ہے تووہ علامہ اس کے مقام کی طرف نزول کرگا تب اس کو نفع ہوگا طالب علم کو اپنے مقام کی طرف نہ لیجائے گا اس کے مناسب ایک واقعہ یاد آیا کہ ایک مرتبہ حضرت حاجی صاحب رحمہ اللہ مجلس میں یہ فرمارہے تھے کہ بلاء بھی نعمت ہے اورلوگ اس تقریر سے متاثرہو رہے تھے عین اس وقت میں ایک شخص آیا جس کے ہاتھ می کسی دوسرے شخص نے لڑائی کے وقت کاٹ لیا تھا اور اس کی وجہ سے تمام ہاتھ ورم کرآیا تھا اور اس کی سخت تکلیف تھی اس نے آکرحضرت حاجی رحمہ اللہ سے عرض کیا کہ حضرت دعاء فرمادیجئے کہ میری تکلیف جاتی رہے میں بھی اس مجلس میں موجود تھا اب مجھ کو طالب علمانہ شبہ ہوا کہ حضرت ابھی ثابت فرما چکے ہیں کہ ہرمصیبت اور بلاء و تکلیف خداکی نعمت ہیں اب اس درخواست کے بعد دوہی صورتیں ہیں اگر اس کی صحت کے لئے دعاء کی تو وہ نعمت کے دفع ہونے کی دعاء ہوگی اور اگردعانہ کی تویہ منصب شیخ کے خلاف ہوگا کہ حضرت اس کو مقام تلذذ بالنعمت پرلے گئے جس سے اس کو ذرا مناسبت نہیں تواس صورت میں حضرت عام مخلوق کے کام نہ آئے حضرت نے معمول کے خلاف اعلان کے ساتھ فرمایا کہ سب اس شخص کے لئے دعاء کریں اور باآوازبلند دعاء فرمانا شروع کی اے اللہ یہ ہم جانتے ہیں کہ یہ بلاء بھی نعمت ہے مگر ہم لوگ اپنے ضعف تحمل کے سبب اس نعمت کی برداشت نہیں کرسکتے اس لئے آپ اپنی رحمت سے اس نعمت بلا کو نعمت صحت سے مبدل فرمادیجئے مجھ کو اس وقت نہایت حیرت ہوئی ۔
حضرت حاجی صاحب رحمہ اللہ کی شان تحقیق ہرامر میں عجیب وغریب تھی ایک مرتبہ مولانا رحمت اللہ صاحب کیرانوی نے واپسی قسطنطنیہ کے بعد حضرت سے کہا کہ سلطان عبدالحمید خان صاحب می ایسی ایسی خوبیاں ہیں اگر آپ کہیں تو سلطان سے آپ کا بھی تذکرہ کروں حضرت نے فرمایا کہ غایت مافی الباب اس تذکرہ سے وہ میرے معتقد ہوجائیں گے پھراس اعتقاد کا کیا نتیجہ ہوگا صرف یہ ہوگا کہ وہ مجھ کو آپ کی طرح بلائیں گے جس کا حاصل یہ ہوگا کہ بیت اللہ سے بعد ہوگا اور بیت السلطان سے قریب مگر اس ارشاد میں بظاہر ایک دعوٰٰی اپنے بڑے اور سلطان کے چھوٹے ہونے کا معلوم ہوتا تھا ساتھ ہی اچھا اچھا تدارک فرمایا کہ آپ سلطان کو عادل بتلاتے ہیں اورحدیث میں ہے کہ سلطان عادل کی دعاء مستحجاب ہوتی ہے سوا گرممکن ہو میرے لئے اس سے دعاء کرادیجئے مگراس کا یہ طریق توعرفا مناسب نہیں کہ ایک فقیر کے لئے سلطان سے دعاء کو کہا جائے سو مناسب صورت یہ ہے کہ ان سے میرا سلام کہہ دینا وہ اس کا جواب دینگے پس وہی جواب دعاء ہوجائے گی ۔