( ملفوظ 246)آداب المصلح یعنی شیخ کے آداب

ملقب بہ آداب المصلح ) ایک نو وارد صاحب نے جو اصلاح کی غرض سے آئے تھے اور جن کا تھانہ بھون کی حاضری کا پہلا ہی موقع تھا ـ حضرت والا سے ایک فقہی مسئلہ پوچھا ـ اس پر حضرت والا نے فرمایا کہ آجکل مصلح باطن سے مسائل فقہی پوچھنے والوں کو باطنی نفع نہیں ہوتا ـ تجربہ سے اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ لوگ بس ان ہی تحقیقات میں رہ جاتے ہیں ـ اصلاح کے متعلق اہتمام کی نوبت ہی نہیں آتی ـ میں خیر خواہی سے عرض کرتا ہوں کہ ان مسائل کی تحقیق کے لئے تو اور بہت جگہ ہیں اور یہاں سے اچھا کام ہو رہا ہے ـ دیوبند ہے ، سہارنپور ہے اور کیا آپ نے یہ سفر مسائل فقہی پوچھنے کے لئے تھا ـ عرض کیا نہیں پھر کیوں بیٹھے بیٹھے جوش اٹھا خاموش نہیں رہا جاتا کیا خاموشی سے پیٹ میں درد ہوتا ہے ـ کیا خاموش رہنا جرم ہے یا اس سے شان میں بٹا لگتا ہے ـ یوں کہئے کہ بک بک کرنے کی باتیں بنانے کی عادتیں پڑی ہوئی ہیں ـ اور یہ بتلایئے کہ اگر آپ نے یہاں آنے کی اجازت لی ہے ـ عرض کیا کہ اس کی اجازت نہیں لی پھر کیوں مخالفت کی پھر جب شروع میں ہی مخالفت کرنا شروع کردی تو آئندہ کا تو اللہ ہی حافظ ہے ـ جس بدفہمی کا کوئی علاج ہے ـ ایک صریح بات اور اس پر عمل نہیں ـ اس ہی ضرورت سے میں اس قسم کی شرطیں لگاتا ہوں ، سمجھتا ہوں کہ فہم کا قحط ہے مگر پھر بھی اپنا ہنر ظاہر کیے بغیر نہیں رہتے اگر ایسا ہی فقہی مسائل کی تحقیق کرنا ہے اور فن کو مدون کرنا ہے ـ ( کیونکہ اکثر سوالات غیر ضروری ہوتے ہیں ) تو میں کہہ چکا ہوں یہ کام اور جگہ یہاں سے اچھا ہو رہا ہے مثلا دیوبند ہے ، سہارنپور ہے وہاں جایئے بلکہ اور لوہار کے یہاں سونا چاندی نہیں لے جاتا اگرچہ وہ دونوں ہی کام جانتا ہو مگر پھر بھی کام وہی لیا جاتا ہے ـ جس کو عادۃ کر رہا ہے ـ افسوس طریق مٹ ہی گیا یہ طریق کے آداب میں سے ہے کہ مصلح سے دوسرے کام نہ لیا جاوے ـ اب یہ کہا جائیگا کہ صاحب ایک مسئلہ پوچھا تھا ـ دین کی بات کی تھی ـ اس پر اسقدر گرفت اگر مسئلہ پوچھنا دین ہے تو جو میں بتلا رہا ہوں ـ یہ بھی دین ہی ہے ـ دوسرے آپ نے اس لئے سفر نہیں کیا اور جس غرض سے سفر کیا ہے اسکا نام و نشان بھی نہیں ـ اسکا جواب یہ ہے کہ جن لوگوں سے پہلے بے تکلفی ہے اور وہ مقصود غیر میں تمیز کرتے ہیں ـ وہ مستثنے ہیں حتی کہ وہ اگر دنیا کی بات بھی پوچھ کر لیں کوئی حرج نہیں ـ پھر بڑی بات یہ ہے تو یہ کام تو اور جگہ یہاں سے اچھا ہو رہا ہے اور جو کام یہاں پر ہو رہا ہے ـ یہ ایسا ہے کہ کہیں بھی نہیں ہو رہا نہ اچھا نہ برا مگر کس سے کہے وہی مثل ہو رہی ہے ـ اندھے کے آگے روئے اپنی آنکھیں کھوئے اور الحمدللہ میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ مسائل فقہی اس طریق سے اعظم ہیں مگر اعظم ہونا اور چیز ہے اور کسی عارض سے اہم ہونا اور چیز ہے ـ مسا ئل فقہی اعظم ضرور ہیں مگر وہ دوسری جگہ سے حاصل ہوتے ہیں اور جو کام یہاں ہو رہا ہے وہ کہیں ہو ہی نہیں رہا ـ اس عارضی سبب یہ اہم ہے ـ میں نے اس لئے اہم کو اختیار کر رکھا ہے ـ بچے کو کہتے ہیں کہ قاعدہ بغدادی پڑھ حالانکہ قرآن شریف اعظم ہے مگر اس کو ضرورت اہم کی ہے اور اسکو قاعدہ میں لگا کر قرآن ہی کی تلاوت کے لئے تیار کیا جا رہا ہے ـ اسی طریق میں لگا کر احکام فقیہ کی تکمیل کے لئے تیار کیا جا رہا ہے اور اس کی اہمیت یہاں تک ہے کہ اکابر کی وصیت ہے کہ شیخ کو کسی کا کلام نہ پہنچائے نہ سلام پہنچائے نہ کسی کا ہدیہ پہنچائے جیسا کہ آجکل دستور ہے کہ کسی آتے جاتے کے ہاتھ کوئی چیز بھیج دی روپیہ بھیج دیا تو ایسا نہیں کرنا چاہیے ـ علاوہ مصالح کے خود غیرت عشقی کا بھی اقتضا ہے ـ
عشاق کی یہ شان ہوتی ہے کہ اپنے محبوب کو دوسری طرف متوجہ نہ کرے ـ یہاں تک لکھا ہے کہ مرید شیخ سے درسی کتاب نہ پڑھے اور نہ پیر اپنے مرید کے خانگی معاملات میں دخل دیا ـ غریبوں کو کچھ خبر تو ہے نہیں ـ مرید ہونے آ جاتے ہیں اگر متنبہ کرتو ہوں اور طریق بتلاتا ہوں اس غرض سے کہ راہ پر پڑیں مقصود معلوم ہو کہ کیونکہ طریق مفقود ہو رہا ہے ـ اس لئے اس کے آداب بھی نہیں تو سخت اور بدخلق اور خدا جانے کیا کیا کہتے ہہیں اجی اگر طبیب شفیق ہے اور حمد درد خیر خواہ ہے تو چاہے منہ بناؤ یا روؤ وہ مرض کی تشخیص کر کے اگر کڑوی دوا مفید ہوگی تو شاہترہ چرائتہ حظل ہی تجویز کرے گا اگر سو دفعہ غرض پڑے پیو ورنہ جاؤ چلتے بنو اور جو سیب کا مربا ورق نقرہ لپیٹ کر دے اس کو مربی بناؤ ـ یہاں تو خود طالب کو بجائے سیب کے چھیل چھال کر کانٹ چھانٹ کر اس کو مربہ بنایا جاتا ہے اور یہ جو لکھا ہے کہ مرید شیخ سے سبق نہ پڑھے وجہ اس کی یہ ہے سبق میں قیل و قال ہوتا ہے ـ جس سے مبادا شیخ کو انقباض ہو جائے اور فیض باطنی سے محروم ہو جائے اور جو لکھا گیا ہے کہ شیخ مرید کے خانگی معاملات میں دخل نہ دے اس میں یہ راز ہے کہ شیخ کو اصل واقعات سے یا مرید کے مصلحت کے خلاف ہو اور اس سے اس کو شیخ سے کیدگی بھی پیدا ہو جائے ـ اس صورت میں بھی باطنی نفع نہ ہو گا البتہ جس صورت میں یہ علت نہ ہو وہ اس سے مستثنی ہے ـ مثلا ایک شخص بیوی کا نان نفقہ نہیں دیتا ـ شیخ کہے کہ نفقہ دو یہ خانگی معاملات میں دخل دینا نہ سمجھا جائے گا کیونکہ اس میں دوسرا احتمال ہی نہیں ـ طاعت خالصہ کا حکم ہے ـ مطلب یہ کہ فصل قضایا میں یا ان مباحات میں جس میں شرعا دونوں جانب کی گنجائش ہے ـ دخل نہ دے ـ جیسے رشتہ وغیرہ آج کل پیر اکثر ایسا کرتے ہیں کہ ایک مرید کی لڑکی ہے ـ دوسرے کا لڑکا ہے کہتے ہیں کہ ہم فلاں کے لڑکے سے تمہاری لڑکی کا رشتہ کرتے ہیں یا نکاح کرتے ہیں ـ مشائخ نے اس کو منع فرمایا ہے یا اسی طرح کوئی نزاعی معاملہ ہے ـ شیخ سے اس کا فیصلہ کوئی کرانے لگے اس میں بھی ممکن ہے کہ ایک کے خلاف ہو تو اس کو رنج ہوگا اور نفع باطن سے محروم ہو جائے گا ـ اور ان باتوں میں دخل دینا تو بری چیز ہے کہ اس میں دنیا کا رنگ ہے ـ تعلیم جو دین محض ہے ـ اس میں بھی اس قدر احتیاط ہے کہ ہر شخص کی باطنی مصلحت اور اسکی حالت کے مطابق دی جاتی ہے اس کا بھی معین ضابطہ نہیں ـ