(ملفوظ 166)آداب التربیت :

(ملقب بہ آداب التربیۃ ) ایک سلسلہ گفتگومیں فرمایا کہ یہ تربیت اور اصلاح کا باب نہایت ہی نازک ہے اس میں بڑے تجربہ اورفن کی ضرورت ہے شیخ کا ولی ہونا قطب ہونا بزرگ ہونا ضروری نہیں مگرفن سے واقف ہونا ضروری ہے ہاں فن جاننے کے ساتھ اگر ولایت اوربزرگی بھی ہوتو اس کی تعلیم مٰیں خاص برکت ہوگی آج کل فن نہ جاننے کی وجہ سے لوگ بڑی گڑبڑ کرتے ہیں اور منزل مقصود سے توبہت ہی دور رہتے ہیں مقصود کی ہوا تک بھی نہیں لگی ایک صاحب نے بذریعہ خط اپنے نفس کی صلاح کی درخواست کی تھی اس پرمیں نے لکھا کہ ہرمرض کو ایک ایک کرکے لکھ کراس کا علاج پوچھو اس پر یہ مہمل جواب آیا میں حقیقت سے توواقف ہوں مگر یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ مجھ میں مرض کیا کیا ہیں اس پرمیں نے لکھا کہ میری سمجھ میں یہی نہیں آیا کہ حقیقت کی توخبرہواور مرض کی خبرنہ ہو اس پرجواب آیا اور بہت طویل تحریر لکھ کربھیجی جس میں اپنی تمام سوانح عمری درج کی رتھی آخرمیں لکھا تھا کہ میری حالت ہے اب آپ سمجھ لیں کہ کون کون مرض میرے اندر ہیں جوقابل علاج ہیں اس پر میں نے لکھا کہ یہ طریقہ معالجہ کا نہیں ہے کہ ایک کتاب تصنیف کرکے بھیج دی تم نے میری پہلی بات کا اب تک جواب نہٰیں دیا اور اتنی بحرطویل لکھ کرایذادی جب تم مرض کا ہونا نہ ہونا نہیں بتلاسکتے جوکہ خاص تمہارے حالت ہے تواتنے دورسے بے بتلائے ہوئے سمجھ لینا ضروری ہے اور میں اس سے قاصرہوں توتم کویہ حق صاصل ہے کہ مجھے لکھو کہ جب تجھ کواتنا بھی سلیقہ نہیں تو تجھ سے تعلق رکھنا ہی فضول ہے تو پھرمیری طرف سے اجازت ہے کسی اور سے تعلق کرو پھر فرمایا کہ یہ تو امور طبیعہ اور فطری ہیں کہ اپنی حالت کوآدمی اس طرح لکھے کہ جس کو دوسرا سمجھ بھی تولے یہ گول مول باتیں لکھنایا کرنا کون سی عقلمندی کی بات ہے ایک ضروری بات یہ ہے کہ آدمی جس کے پاس جاوے اورجس کام کوجاوے اس سے صاف کہہ دے اس میں کسی کی تعلیم کی کونسی ضرورت ہے مثلا بازار جاتے تویہ نہیں کہتے کہ سودا دیدو بلکہ اس چیز کا نام لیتے ہیں کہ نمک دیدو مرچ دیدو گرم مصالحہ دیدو ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ اس چیز کا نام نہ لیں یا اسٹیشن جاکر یہ کہتے کہ ٹکٹ دیدو اوراس مقام کا نام نہ لیتے ہوں جہاں کا ٹکٹ لینا ہے بلکہ یوں کہتے ہیں کہ نانوتہ کا ٹکٹ دیدو سہارنپوررامپورکا ٹکٹ دیدو وہاں ناقص کلام کو کافی نہیں سمجھتے مگران نا تمام باتوں کی مشق کے لئے بیچارے ملا ہی رہ گئے ہیں یہاں پرآکر کہتے ہیں کہ تعویذ دیدو اب یہ کچھ نہیں کہ کس چیز کا تعویذ کیا ملانے ان کے باوا کے نوکر ہیں کہ بیٹھے ہوئے پوچھا کریں مگر میرے یہاں آکران کا دماغ درست کردیا جاتا ہے کہ ایسی بیہودگیوں پرروک ٹوک ہوتی ہے گوباہر جاکر بد نام کرتے ہیں کہ بدخلق ہے سخت گیر ہے مگر اس کے ساتھ اپنے اخلاق حمیدہ اورنرم خوئی کا کوئی ذکر نہیں کرتے کہ ہم نے بھی کسی کو ستایا ہے اور اذیت پہنچائی ہے یا نہٰیں ان لوگوں کے صاف نہ کہنے پرصرف ایک یہ بات باقی رہ جاتی ہے کہ میں ان سے پوچھا لیا کروں کہ کیا کہتے ہواورمیں یوں اس پرقادر بھی ہوں اورپوچھ بھی سکتا ہوں مگر پوچھتے ہوئے غیرت آتی ہے اس لئے کہ جب ان نالائقوں کی یہ حالت ہے کہ ان کے قلوب میں اہل علم اوراہل دین کی وقعت نہیں توہمیں ہی کون سی ضرورت ہے کہ ان سے چاپلوسی کریں یہ پوچھنا اس حالت میں میرے لئے موت کے برابر ہے بلکہ ایک حیثیت سے موت محبوب ہے اور تلخ ہے آخر یہ کس قاعدہ سے میرے ذمہ ہے کہ کام تو اس کوپوچھوں میں مجھ کوضرورت اور غرض ہی کیا ہے بہت سے بہت غیرمعتقد ہوجائیں گے سو میری جوتی سے ایسے بدفہموں کا تو غیر معتقد ہی ہونا بہترہے اور زیادہ سے تکبر کا الزام ہوگا مگر تملق کا توالزام نہ ہوگا باقی مجھ کو تواس سے بھی مسرت ہوتی ہے کہ ایک بدفہم اپنی بدفہمی مطلع توہوا دوسرے رسمی پیروں کے یہاں توایسے بدفہموں اوربدعقلوں کی بڑی آؤ بھگت اورچاپلوسی ہوتی ہے خوشامدیں کی جاتی ہیں اور محض غرض کی بناء پراور وہ غرض دنیا ہے جواہل علم اور درویشوں کی شان سے نہایت بعید ہے ۔ استغفراللہ لاحول ولاقوۃ الا باللہ جویہاں کا طرز ہے اپنے بزرگوں کایہی طرز دیکھا اور یہی پسند بھی ہے میں تو اس طرز کے خلاصہ میں یہ کہا کرتا ہوں کہ اور جگہ برکت ہے میرے یہاں حرکت ہے ۔ اور مصلحین شیخ ہیں اور میں میخ ہوں یہاں دلشوئی ہوتی ہے اور جگہ ولایت قطیبت غوثیت ابدالیت تقسیم ہوتی ہے میرے یہاں انسانیت آدمیت سکھائی جاتی ہے اگر ولی بننا بزرگ بننا قطب بننا غوث بننا ہوتواور جگہ جاؤ انسان بننا ہو یہاں پر آؤ ایک شاعر نے خوب لکھا ہے
زاہد شدی وشیخ شدی دانشمند ایں جملہ شدی ولے مسلمان نہ شدی
میں نے اس کو اس طرح بدل دیا ہے اس لئے کہ یہ جملہ سخت ہے کہ مسلمان نہ شدی
زاہد شدی وشیخ شدی دانشمند ایں جملہ شدی ولیکن انسان نہ شدی
توولی بن سکتا ہے بزرگ بن سکتا ہے مگر انسان بننا بہت مشکل ہے مولوی ظفراحمد حضرت مولانا خلیل احمد صاحب رحمتہ اللہ علیہ سے بیعت ہیں ایک مرتبہ حضرت حاجی صاحب رحمہ اللہ کوخواب میں دیکھا عرض کیا کہ حضرت دعاء فرمادیجئے کہ میں صاحب نسبت ہوجاؤں حضرت نے جواب میں فرمایا کہ صاحب نسبت تو تم ہومگر اصلاح کراؤ اوراپنے ماموں سے کراؤ تب انہوں نے اس طرف رجوع کیا غرض بزرگی اور ولایت اور چیز ہے اور انسانیت اور آدمیت اور چیز ہے خلاصہ یہ ہے کہ یہاں پرانسان بنایا جاتا ہے اگریہ طرز کسی کونا پسند ہو یہاں نہ آئے اور کہیں جائے اور میں اس موقع پریہ پڑھا کرتا ہوں ۔
ہاں وہ نہیں وفا پرست جاؤ بے وفا سہی جس کوہوجان ودل عزیزاس کی گلی میں جائے کیوں
اور میں یہ بھی بتلائے دیتا ہوں کہ انسانیت اور آدمیت بدون کسی کی جوتیاں کھائے ہوئے پیدا نہیں ہوسکتی الاماشاء اللہ اگرکسی کوخدا داد فہم سلیم عطا فرمایا گیا ہوتو یہ دوسری بات ہے مگر اکثر یہی ہے کہ جوتیاں کھانے کی ضرورت ہے اور ایسانہ ہونا مصداق ہے النادرکالمعدوم کا اور میں اس موقع پرایک مثال دیا کرتا ہوں کہ مربا جبھی بننا ہے کہ پہلے سیب کو خرید کرلاتے ہیں پھر اسکو چاقو سے چھیل کراس کا چھلکا الگ کرتے ہیں اور وہ جوکہیں داغ ہوتا ہے اس کو چاقو کی نوک سے جدا کرتے ہیں پھرایک دیگچی میں پانی بھر کرچولہے پررکھ کراور آگ جلا کراوراس میں ان صاف شدہ سیب کو جوش دیتے ہیں مابعد اس کواتارکرٹھنڈا ہوجانے کے بعد اس کو پھر چاقو کی نوک سے کوچتے ہیں تاکہ قوام اس کے اندر اثر کرسکے پھرقوام تیار کرکے اس میں کوڈالتے ہیں اور پھر کئی روز ایک مرتبان میں بند رکھتے ہیں رکھتے ہیں تب جاکر یہ مربا اس قابل ہوتا ہے کہ جس غرض سے طبیب نے اس کو بتلایا ہے اس کے لئے مفید ہوسکے تواس طرح مربا بن کرپھر کہیں طبیعت کامربی بننے کے قابل ہوسکتا ہے اگرہرکوچنے پروہ سیب ہاتھ سے نکال کربھاگنے لگے اور اس کی برداشت نہ کرسکے توبس بن چکا مربا اسی طرح اگرشیخ کی ہرڈانٹ اور ڈپٹ پرطالب کے دل میں کدورت پیدا ہو اور برداشت نہ کرسکے توبن چکے مربی ایک حکایت حضرت مولانا رومی رحمتہ اللہ علیہ نے مثنوی میں بیان فرمائی ہے اس میں ایک شخص کا اپنی کمرپرشیر کی تصویر گود وانے کے لئے جانا اورہرسوئی کے کوچنے پر یہ کہنا کہ یہ کیا بناتا ہے اور اس کا بتلانا کہ یہ کان بناتا ہوں سربناہوں پیٹ بناتا ہوں دم بناتا ہوں اوراس کا یہ کہنا کہ یہ شیرکا نقش کوئی سنے کا تھوڑا ہی یا بے دم کا شیرنہیں ہوتا اور اس پراس گودنے والے کا سوئی ہاتھ سے پھینک کریہ کہنا مفصلا مذکور ہے
شیر بے گوش وسرواشکم کہ دید ایں چنیں شیرے خدا ہم نافرید
گربہر زخمے تو پر کینہ شوی، پس کجا بے صیقل آئینہ شوی
چوں نہ داری طاقت سوزن زون پس تواز شیر ژیاں ہم دم مزن
تو صاحب اصلاح تواصلاح ہی کے طریق سے ہوسکتی ہے بدون طریقہ تو کوئی ادنی سے ادنی کام بھی انجام کونہٰیں پہنچ سکتا اور دوسرے پیروں کے یہاں جوان لوگون کی آؤبھگت ہے ان میں بعض کی نیت توصالح ہوتی ہے مزاحا فرمایا کہ اور بعض کی خسرہوتی ہے جن کی صالح ہوتی ہے وہ یہ ہوتی ہے کہ یہ لوگ ہم سے لگے بندھے رہیں کہیں کسی بدعتی وغیرہ کے ہاتھ میں جاکر نہ پھنس جائیں خیر اپنا مزاق ہے مجھ کو تواس سے غیرت آتی ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ نعوذ باللہ دین ان کامحتاج ہے دین ان کا طالب ہے اور یہ اس کے مطلوب ہیں اورمیں سب کومشورہ نہیں دیتا کہ سب اپنے اخلاق ایسے بنالیں مگر مجھے معاف رکھیں اور جن کی نیت خسرہوتی ہے اسی کا منشا نہایت ہی مزموم ہے بلکہ نہایت ہی مردود وہ یہ کہ اگر ہم نے ان کے ساتھ ایسا برتاؤ نہ کیا تویہ غیر معتقد ہوجائیں گے اور جوخدمت کرتے ہیں وہ نہ کریں گے پس یہ لوگ تو ہروقت اینٹھنے میں رہتے ہیں اورپیروں کی طرف سے ان کا تملق ہوتا ہے سو یہ درجہ تو نہایت براہے ہمارے حیدرآبادی ماموں صاحب تھے توہمارے مسلک کے خلاف غالی صوفی تھے مگردکاندار نہ تھے اور اکثر ان کی باتیں حکیمانہ ہوئی تھیں وہ فرمایا کرتے تھے کہ حیدر آباد دکن کے امراء تو جنتی ہیں اورمشائخ وہاں کے دوزخی اس لئے کہ امراء جوتعلق رکھتے ہیں مشائخ سے وہ محض اللہ کے واسطے ہے اور مشائخ جوتعلق کرتے ہیں امراء سے یہ دنیا کے واسطے ہے واقعی بڑے کام کی بات فرمائی ایسا ہی ہو رہا ہے ایک ایسے ہی مرید نے اپنے ایسے ہی پیر سے خواب بیان کیا کہ حضرت رات میں نے ایک خواب دیکھا ہے کہ گویا میری انگلیاں توپاخانہ میں بھری ہیں اور آپ کی شہد میں پیرصاحب سن کرآپے سے باہرہوگئے کہ ٹھیک توہے تودنیا کا کتا ہے تیری حالت کی ایسی ہی مثال ہے جیسے پاخانہ اور ہم اللہ والے بزرگ ہیں ہماری حالت کی مثال شہد کی سی ہے مرید کوئی بڑا ہی مسخرہ اورظریف تھا کہنے لگا کہ حضرت نے تعبیرمیں جلدی فرمائی ابھی خواب پورا نہیں ہونے پایا فرمایا کہ بیان کرو آگے کیا باقی ہے اس نے کہا کہ یہ بھی دیکھا کہ تمہاری انگلیاں تومیں چاٹ رہا ہوں اورمیری انگلیاں تم چاٹ رہے ہوبس پیرصاحب گم ہوگئے تعبیروغیرہ سب ختم ہوگئی اب یہ خواب واقعیہویانہ ہومگر واقعہ یہ ہے کہ اس نے اس حکایت مٰیں معاملہ کی حقیقت کوظاہر کردیا کہ ہم تم سے دین کی وجہ سے تعلق رکھتے ہیں جومثل شہد کے ہے اور تم مجھ سے دنیا کی وجہ سے تعلق رکھتے ہوجومثل پاخانہ کے ہے اور ان عوام بیچاروں کی اتنی خطا نہیں ان کے خلاق تو خوشامد کرکرکے خراب کئے گئے ہیں ورنہ وہ پھربھی ان پیروں سے زیادہ محل کوسمجھتے ہیں نواب عمرخاں کے پاس جب وہ حج کوجارہے تھے جہاز میں ایک بہت بڑا افسر انگریز مزاج پرسی کو آیا نواب صاحب نے نہایت بے رخی کے ساتھ ملاقات کی لیٹے ہوئے تھے بیٹھے تک نہیں وہ کھڑا رہا اور جوسوال اس نے کیا نہایت روکھا جواب دیا جب وہ چلا گیا توسہارنپورکے ایک رئیس نے نواب صاحب سے عرض کیا کہ خان صاحب یہ آپ کا مہمان تھا گو کافر تھا مگر جناب رسول اللہ ﷺ نے خود کفار کی بھی جب کہ وہ مہمان ہوئے مدارت فرمائی ہے اس لئے آپ کو بھی مہمان ہونے کی حیثیت سے مدارت اور احترام کرنا مناسب تھا نواب صاحب نے پٹھانوں والا جواب دیا کہ الفاظ تودیہاتی تھے مگر مقصود صحیح تھا جواب یہ دیا کہ حضور ﷺ کوتو پیغمبری کرنا تھی مجھ کو پیغمبری کرنا تھوڑا ہی ہے یہ جواب بظاہر بڑا بے ادبی کا ہے مگر حاصل اور مدلول اس کا صحیح ہے کہ اس وقت تالیف قلوب کی ضرورت تھی اوراب ضرورت نہیں رہی البتہ ایک اس سے مستثنٰے ہے وہ یہ کہ جہاں تبلیغ نہ ہوئی ہو وہاں اب بھی تالیف قلب مناسب ہے باقی جہاں تبلغ ہوچکی ہووہاں ان عرفی اخلاق کی ضرورت نہیں سودیکھئے اس دیہاتی پٹھان نے ان رعایات کا محل مگر یہ پیر نہیں سمجھتے ۔