ایک صاحب کی ایک متکبرانہ غلطی پرمواخذہ فرماتے ہوئے فرمایا کہ آج کل توبڑی بزرگی اورولایت یہ ہے کہ ہاتھ میں تسبیح لیلٰی اور آہستہ آہستہ جھک کرچل لئے کوئی سمجھے گا بڑے کوئی شیخ المشائخ آرہے ہیں یا خضرعلیہ السلام دریا سے نکل کرآگئے ہیں اس کا بلکل ہی ایتمام نہیں کہ ہماری بدتمیزی اور بدتہذیبی کی بھی اصلاح ہوئی یا نہیں تمہاری اس غلطی کا سبب محض تکبرہے شرم نہ آئی کہ اور مسلمانوں کی طرف پیٹھ کرکے بیٹھ گئے گویا یہ ہی سب کے بڑے ہیں آخران میں اور مسلمانوں سے کون سی زائد چیز ہے مجھ کوسب میں زیادہ تکبر سے نفرت ہے تکبر میں اور اس طریق میں توبعدالمشرقین ہے اول قدم اس طریق میں اپنے کو فنا کرنا اورذلیل سمجھنا ہے ہر شخص سے اپنے کوذلیل وخوار سمجھے اگر یہ بات نہ پیدا ہوئی تو وہ محروم رہا اس نے کچھ حاصل نہ کیا اور یہ تو امور طبعی ہیں میرے نزدیک تو یہ سکھلانے کی باتیں نہیں مگر بے حسی کا کسی کے پاس کیا علاج بعض لوگوں کو اپنے کو بزرگ سمجنھے کا مرض ہوجاتا ہے مگرجس کو یہ معلوم نہ ہو کہ میں کس طرح اور کس حال میں مروں گا اس کو تقدس پر کیسا ناز اللہ بچائے جہل سے اورصاحب ناز کسی بات پرہوشاید ساری عمر میں ایک رکعت بھی ایسی یاد نہ آویگی کہ خدا کے حکم کے موافق ادا کی ہو پھریہ ناقص بھی جیسی کچھ ہے ان کا فضل ہے انعام ہے احسان ہے ورنہ ہم تواس کی توفیق کے بھی مستحق نہ تھے ۔
