ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ تصنیف کا کام بھی بہت مشکل کام ہے ـ آج کل ہر شخص مصنف بنا ہوا ہے کوئی معیار ہی نہیں رہا ـ قلم ہاتھ میں لیا اور جو جی میں آیا لکھ مارا نہ اصول کی خبر ہے نہ فروع کی ـ میں آجکل ایسی ہی بے اصول کتاب دیکھ رہا ہوں ـ بڑے مشہور مصنف کی تصنیف ہے مگر محض ملمع آجکل بڑا کمال یہ ہے کہ الفاظ زوردار ہوں چاہے مدلول صحیح ہو یا غلط اس سے کوئی بحث نہیں ـ جن باتوں کی اس کتاب میں ثابت کیا ہے معلوم ہوتا ہے کہ سوچ سوچ کر یہ تلبیس باتیں بنائیں ہیں ـ استدلال کی دو صورتیں ہیں ـ ایک صورت تو یہ ہے کہ آزادی سے دلائل پہلے ذہن میں آئیں اور نتیجہ ان کے تابع ہوا اور ایک صورت یہ ہے کہ دلائل پہلے سے ذہن میں نہیں ـ پہلے ہی سے ثابت کرنا ہے اور اس کے لئے سوچ سوچ کر دلائل کو ذہن میں لایا جاتا ہے ـ ان دونوں صورتوں میں بڑا فرق ہے ـ پہلی ایک خاص قوت ہوتی ہے گو اس میں اجتہادی غلطی ہی ہوگئی ہو اور دوسری صورت میں یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص محض باتیاں بنا رہا ہے اور یہ فرق معلوم ہو جانا موقوف ہے ـ ذوق صحیح پر بعضی بات وجدان سے معلوم ہوتی ہے بیان کرنے پر قدرت نہیں ہوتی ـ
