فرمایا کہ ایک مقام میں غیر مقلدوں اور حنفیوں کا آمین بالجہر پر جھگڑا تھا مقدمہ بازی کی نوبت آئی ایک انگریز تحقیق واقعہ کے لئے مقرر کیا گیا اس رپورٹ میں عجیب و غریب مضمون لکھا کہ میں نے تحقیق کیا تو احادیث میں آمین بالجہر اور آمین بالسر دونوں کا ثبوت معلوم ہو گیا مگر آمین بالشر کا کہیں ثبوت نہیں ہوا لہذا آمین کی تین قسمیں ہوئیں ، آمین بالجہر ، آمین بالسر ، آمین بالشر ، پہلی دو قسموں کی اجازت ہونا چاہئے اور آمین بالشر کی ممانعت ہونا چاہئے ۔
فرمایا کہ بعض غیر قوم کے لوگ بھی بڑے عالی دماغ ہوتے ہیں یہ شخص کیسا واقعہ کی حقیقت تک پہنچ گیا ۔ اور واقعی بعضے مدعیان عمل بالحدیث سنت سمجھ کر آمین بالجہر نہیں کہتے بلکہ شورش کی نیت سے وہ آمین بالشر ہی ہو جاتی ہے ۔
