ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ معاشرت توآج کل لوگوں کی نہایت ہی گندی اور خراب ہے شریعت مقدسہ نے ہمارے ہرمعاملے اور ہرقسم کے فعل وقول کی تعرض کیا ہے آزاد نہیں چھوڑا پرچیز کے متعلق تعلیم ہے اور اس کا مکمل قانون ہے مگر آداب معاشرت کو لوگوں نے دین کی فہرست ہی سے نکال دیا ہے سمجھتے ہیں کہ نماز ورزہ حج زکوۃ ذکروشغل تلاوت قرآن نفلیں ان چیزوں کے متعلق احکام ہیں آگے جوکچھ چاہیں کرتے پھریں جس کے معنی آج کل آزادی ہیں سو خوب یادرکھو کہ تم ہرگزہرگز آزاد نہیں چھوڑا گیا مثل بھینسے اور سانڈ کے جس کے گیہوں چاہیں کھالیں اور جس کے چنے چاہیں کھالیں ہوہم کو ایسا نہیں چھوڑدیا گیا بلکہ شریعت نے ہماری رفتار گفتار نشست وبرخاست لین ودین کھانے پینے وغیرہرچیز سے تعرض کیاہے اوراس کے متعلق شریعت میں مکمل قانون ہے مگراب تویہ ہوگیا ہے کہ ہاتھ میںتسبیح لے لی ٹخنوں سے اونچا پاجانہ اور گھٹنوں سے نیچاکرتا پہن لیا اوراشراق وچاشت اور تہجد کی نفلیں پڑھ لیں بس ہوگئے کامل مکمل مگر کم بل نہ ہوئے ـ( یعنی بل کم نہ ہوئے ) بلکہ زیادہ ہی بل رہے انکسار نہیں عجز افتقار نہیں خلاصہ یہ ہے عبدیت نہ پیدا ہوئی وہی تیلی کے بیل کی طرح تمام دن چلا مگررہا وہیں بڑے بڑے کوئی مولانا ہیں کوئی مقتدانا ہیں کوئی شیخ المشائخ ہیں کوئی صوفی ہیں ایسی مثال ہے کہ جیسے لفافہ پر پتہ توبڑے جلی قلم سے خوشخط عربی میں لکھا ہوا ہے مگر اندرکام کا مضمون ندارد اسی کوایک بزرگ فرماتے ہیں
از بروں چوں گور کافرپرحلل واندروں قہر خدائے عزوجل
از بروں طعنہ زنی بربایزید ورد رونت ننگ می واردیزید
( ظاہری حالت توایسی ہے کہ حضرت بایزید پربھی طعن کرتے ہو اورباطنی حالت ایسی گندی کہ یزید بھی تم سے شرماوے ۔ 12)
17/ ربیع الاول 1351ھ مجلس عبد نماز ظہر یوم شنبہ
