ملقب بہ ادب الخطاب ایک مولوی صاحب نودار تشریف لائے حضرت والا کے اس دریافت فرمانے پر کہ کہاں سے تشریف لائے نہایت آہستہ سے جواب دیا جس کو حضرت والا نہ سن سکے فرمایا کہ مجھے آپ سے یہ شکایت ہے کہ آپ نے ایسی پست آواز سے جواب دیا جس کو میں نہیں سن سکا کیا اس سے دوسرے کو اذیت آپ نے پہنچائی کہ جو سوال میں نے کیا تھا اس کا جواب نہیں دیا کیا یہ سوال میرالغو تھا یا قابل جواب نہیں کہتے اس کو بے فکری کہتے ہیں اس کی فکر ہی نہیں کہ ہماری کسی بات سے دوسرے کواذیت تو نہ پہنچے گی میں نہیں کہتا کہ اذیت پہنچانے کا قصد ہے شکایت اس کی ہے کہ اس کا قصد نہیں کہ دوسرے کو اذیت نہ پہنچے حالانکہ یہ قصد ضروی ہے عرض کیا کہ مجھ کو یہاں کے اصول قواعد معلوم نہیں فرمایا کہ یہ ٹھیک ہے مگربعض باتیں اور بعض اصول خاص ہوتے ہیں خاص خاص مقام لے لئے ان میں توجہل عذر ہے لیکن یہ مبہم بولنا اوار آہستہ سے بولنا یہ تو سب جگہ کیلئے طبعا اذیت کا سبب ہیں اس میں غلطی کرنا بے فکری سے ہے جہل سے نہیں غرض اول قسم میں توایک درجہ میں معذور ہوسکتے تھے کہ قواعد نہ معلوم ہونے کی وجہ سے کسی قاعدہ سے خلاف ہوفاتا مگراس طرح بولنا جیسے نواب صاحب بولتے ہیں کہ دوسرا سمجھ ہی نہ سکے اس میں کیا معذوری سمجھی جائے دوسر ے آپ عالم ہیں آپ یہ بتلائیں کہ کیا اس کا تعلق قواعد سے ہے عرض کیا کہ نہیں فرمایا کہ پھر یہ میرے سوال کا جواب آپ کے نزدیک کس طرح ہوگیا اس پریہ صاحب خاموشی رہے فرمایا کہ یہ تیسرے اذیت پہنچائی کہ سوال کا جواب ہی ندارد کیا ہوگیا آپ لوگوں کو آخرلکھ پڑھ کرکہاں ڈبودیا کیا غلطی کے اقرار بیٹھی ہوتی ہے کیا تم لوگوں کے دماغوں میں خنا س بھراہے بس واقعی بات وہی ہےجو میں کہہ رہاہوں کہ اس کا اہتمام ہی نہیں کہ دوسرے کو کلفت نہ ہوگو اذیت کا قصد نہیں ہوتا مگر اس کا بھی قصد نہیں کہ دوسرے کو اذیت نہ پہنچے آخرایسے کان کہاں سے لاؤں کہ بے بولے ہی سن لیاکروں اس پروہ صاحب کچھ بولے مگر اسی آہستہ آواز سے فرمایا کہ پھروہی حرکت ہوئی باوجود اتنی تقریر کے اور سمجھا نے کے اب میں اخیر بات کہتا ہوں کہ آپ یہ فرض کرلیجئے کہ میں بہرا ہوں اس فرض کے بعد اول میری شکایت کا جواب دیجئے آپ کے نزدیک تو وہ چیز لاشے ہے جس کے متعلق میں سوال کررہاہوں مگر میں بے اصول گفتگو سے گھبراتا ہوں یہ بھی ایک وجہ ہے میرے مناظرہ کو پسند نہ کرنے کی آجکل بے اصول گفتگو ہوتی ہے اور اس سے مجھ کو وحشت ہوتی ہے ہاں اگراصول کے ماتحت گفتگو ہوتو اپنی ساری عمراس کے لئے وقف کرنے کوتیارہوں میں تواچھے خاصے لکھے پڑھوں کو رات دن دیکھتا ہوں ان سے سابقہ پڑتا رہتا ہے کہ ان کی ایک بات بھی الاماشاءاللہ اصول کی نہیں ہوتی حالانکہ ادیب بھی ہیں عالم بھی ہیں فاضل بھی ہیں مناظرہ بھی ہیں منطقی فلسفی بھی ہیں مگر ایک بات بھی اصول کی نہیں بس وہی پڑھنے اور گنے کا فرق ہے جواکثر کہاکرتا ہوں پھر ان صاحب کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا کہ آپ جواب دیں میں صبر کئے بیٹھا ہوں آخربشرہوں کیوں ستاتے ہواسی بل بوتے پرمحبت کا دعویٰ کر کے آئے تھے کہ بات کا جواب تک بھی ندارد اس پروہ صاحب کچھ لونے مگر وہی آہستہ آواز سے فرمایا کہ اب حد ہوگئی میں نے یہان تک کہہ دیا ابھی کہ آپ فرض کرلیجئے کہ میں بہرا ہوں باوجود اس کہ دینے کے اور اتنی لمبی چوڑی تقریرکے نہ آواز بلند ہے اور نہ مضمون صاف اور پورا ہے پھر فرمایا کہ اب میرے قلب میں سوزش پیدا پیدا ہوگئی بوجہ تحمل کے آپ مسجد میں تشریف رکھیں مجھ کو تکلیف ہونے لگی وہ صاحب مسجد میں تشریف لے گئے حضرت والا نے اہل مجلس کی طرف مخاطب ہوکر فرمایا کہ اب بتلائیے کہاں تک تغیرنہ ہو آخربشرہوں جس چیز کو بار بار تصریحا کہہ چکا پھرلوٹ کر وہی حرکت البتہ اگرمیں بلکل بے حس ہوجاؤں تب ان کا کام بنے ایسے ایسے بدفہم لوگ آتے ہیں جن سے تکلیف ہوتی ے پھر فرمایا کہ میں دعوی سے کہہ سکتا ہوں کہ میں بہت ہی صبر اور تحمل سے کام لیتا ہوں آپ حضرات نے اسی واقعہ میں دیکھا کہ میں تحمل کرتا ہوں یا سختی کرتا ہوں یہ ہیں وہ باتیں جن پرباہر جاکر مجھ بدنام کیا جاتا ہے اب بدنامی کودیکھوں یا آنیوالے کی مصحلت اور اپنی تکلیف کو دیکھوں اور مجھ کو تو اس بدنامی سے خوشی ہوتی ہے کہ بدفہموں کی بدفہمیوں سے تونجات ملے گی اس لئے ایسی بدنامی میں بھی لذت ہے خوب کہا گیا ہے
گرچہ بدنامی ست نزد عاقلاں ٭ مانمی خواہیم ننگ ونام را
انتہی جزوادب الخطاب ۔
