( ملقب بہ ادب السیاستہ ) ایک صاحب کی غلطی پر حضرت والا مواخزہ فرمارہے تھے ان سے جواب طلب ہو رہا تھا وہ صاحب خاموش تھے ایک صاحب نے جو کہ مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے ان صاحب سے خطاب کیا کہ آپ جواب دیجئے اسپر حضرت والا نے ان سے فرمایا کہ بس آپ دخل نہ دیجئے آپ کو میں نے وکیل نہیں بنایا آپ کیوں داخل در معقولات دیتے ہیں اس طرز میں بڑے مفسدے ہیں ایک مفسدہ تو یہ ہے کہ ایک غریب پر چہار طرف سے ہنگامہ پرپا ہو جاتا ہے جس سے اسکی دلشکنی ہوتی ہے دوسرے یہ کہ مخاطب کو مجھ سے تو محبت ہے اس لئے اس کو میری ہر بات گوارا ہوگی اور تم سے محبت نہیں اس لئے اس کو ناگواری ہوگی اور ایک تیسری بات ان دونوں سے باریک ہے جس پر بدون غور کے نظر پہونچنا مشکل ہے وہ یہ کہ میری اس میں اہانت ہے اب تو کافی نہیں ہمارے جوڑ لگانے کی ضرورت ہے اور ان ناصح صاحب سے یہ بھی فرمایا کہ آپ کو بیٹھے بٹھلائے کیوں جوش اٹھا آدمی کو پہلے اپنی فکر چاہئے یہ سب فضول باتیں بے فکری سے ہوتی ہیں معلوم ہوتا ہے کہ آپ اس طریق کی حقیقت سے بالکل بے خبر ہیں اس طریق میں پہلا قدم اپنے کو مٹانا فنا کرنا ہے یہاں پر آنیوالوں کو تو ایسا رہنا چاہئے کہ دوسرا سمجھ ہی نہ سکے کہ کوئی یہاں پر رہتا بھی ہے عرض کیا کہ معاف کیجئے غلطی ہوئی آئندہ انشاءاللہ تعالی کبھی ایسی غلطی نہ ہوگی فرمایا کہ معافی تو میں کوئی انتقام تھوڑی ہی لے رہا ہوں معاف ہے مگر کیا غلطی پر متنبہ بھی نہ کروں ہمیشہ اس کا خیال رکھئے کہ جہاں پر آدمی جائے اول وہاں کے اصول اور قواعد اور آداب معلوم کرے ـ ہر جگہ کے جدا اصول اور قواعد ہوتے ہیں دوسرے آدمی کو نئی جگہ میں بولتے ہوئے ویسے بھی تو حجاب ہوتا ہے خصوصا میرے یہاں آنیوالوں کو اور رہنے والوں کو تو اس کا مصداق بنکر آنا اور رہنا چائے
بہشت آنجا کہ آزارے نباشد کسے راہا کسے کارے نباشد
ان ہی بدتمیزوں کی وجہ سے میں ایسے لوگوں سے جن سے بے تکلفی نہ ہو یا بے تکلفی ہو مگر اس شخص میں سلیقہ نہ ہو کوئی خدمت نہیں لیتا اس لئے کہ اس حالت میں بجائے راحت کے تکلیف ہوتی ہے اب پنکھا ہی ہے اس کو کھنچنے میں بعض بدتمیزی کرتے ہیں مشین بنجاتے ہیں اس کا بھی خیال نہیں کرتے کہ مجلس سے کوئی اٹھ رہا ہے اس کے سر میں لگ جاویگا کچھ پروا نہیں اور میں تو عین مواخزہ کی حالت میں بھی مخاطب کی رعایت رکھتا ہوں کہ اس کی اہانت نہ ہو ذلت نہ ہو اور اہانت تو وہ کریگا جو اپنے کو اس سے افضل خیال کرتا ہو میں سچ عرض کرتا ہوں کہ عین مواخزہ کے وقت بھی میں اسی کو اپنے سے افضل اور بہتر سمجھتا ہوں اور اسوقت اسکا استحضار ہوتا ہے کہ معلوم نہیں خدا تعالی کے نزدیک بوجہ نورانیت کے اس کی بات پسند ہو اور میری ناپسند ہو اسوقت مجھ پر خوف کا غلبہ ہوتا ہے ڈرتا رہتا ہوں تو بھلا ایسا شخص کیا کسی کی دل سے اہانت کر سکتا ہے یا اس کو ذلیل سمجھ سکتا ہے ـ اب رہا یہ شبہ کہ عتاب کی حالت میں معتوب کو ذلیل نہ سمجھے یہ دونوں چیزیں کیسے جمع ہو سکتی ہیں تو بعض اکابر نے اس کی ایک عجیب مثال فرمائی ہے کہ کسی شہزادے کے کسی جرم پر بادشاہ بھنگی کو حکم دے کہ اس کے بید لگاؤ تو عین بید لگانے کے وقت کیا بھنگی اپنے کو شہزادے سے افضل سمجھے گا ہرگز نہیں یہ ہی سمجھیگا کہ شہزادہ شہزادہ ہی ہے میں میچارہ بھنگی میرا کیا ہستی مگر چونکہ بادشاہ کا حکم ہے اس فرض کو پورا کر رہا ہے اور یہ خیال بھی لازم حال ہے کہ اگر حکم کے خلاف ہاتھ ہلکا بھی پڑا تو کہیں اسکی جگہ میں رکھا جاؤں ان دونوں کو جمع کرنیکی مثال اس سے زیادہ واضح دوسری نہیں ہو سکتی اسی طرح واللہ کھبی وسوسہ بھی میرے قلب میں اس کی اہانت کا نہیں ہوتا اسی کو افضل سمجھتا ہوں مگر چونکہ حکم ہے اس لئے کہنے کی بات کہتا ہوں اصلاح کا کام سپرد ہو گیا ہے اس لئے ضروری بات نہ کہنے کو خیانت سمجھتا ہوں حضرت مولانا دیوبندی رحمتہ اللہ علیہ کے اخلاق اظہر من الشمس ہیں مگر اخیر میں سنا ہے کہ ، حضرت بعض لوگوں کے متعلق یہ رائے ظاہر فرمادیتے تھے کہ ایسے متکبرین کا علاج تھانہ بھون ، ہو سکتا ہے ہمارے مجمع میں حضرت شاہ عبدالرحیم صاحب رائپوری بے انتہا خلیق تھے ان کا اخلاق کی یہ حالت تھی کہ جو کسی نے دوا بتائی کھا لی بعض دفعہ اس سے تکلیف بھی ہو جاتی لیکن اگر وہ ، شخص پوچھتا ہے کہ حضرت کو دوا نے نفع دیا فرماتے بڑا فائدہ ہوا اور میری حالت یہ ہے کہ اکثر طبیب بھی آتے رہتے ہیں اگر وہ کسی موقع پر مجھ سے کسی دوا کے استعمال کو کہتے ہیں تو میرا معمول ہے کہ میں صاف کہدیتا ہوں کہ میرے معالج فلاں حکیم صاحب ہیں آپ ان کو مشورہ دیجئے میں ان کے کہنے ، سے کھالوں گا آپ کے کہنے سے نہیں کھاؤں گا غرض مجھ سے ان کے اخلاق بدر جہاز بڑھے ہوئے تھے ، لیکن باوجود اس کے اخیر میں جب حضرت مرض الموت میں مبتلا ہوئے اور اسمیں بھی لوگوں نے چین نہیں دیا تب فرمایا کہ واقعی اشرف علی کے ضوابط اور قواعد کی سخت ضرورت ہے یہ مقولہ حضرت شاہ عبدالرحیم صاحب رائپوری کا ہے خود پیر و مرشد حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے اخلاق کی یہ حالت تھی کہ ایک خانصاحب آپ کی خدمت میں اکثر دوپہر کے وقت آیا کرتے وہی وقت ، حضرت کے آرام کا ہوتا تھا مگر ان کی وجہ سے دوپہر میں بیٹھے رہتے اور کبھی منع نہیں فرمایا ایک روز حافظ محمد ضامن صاحب نے دیکھ لیا فرمایا کہ خانصاحب رات بھر تو جوروکی کی بغل میں پڑے سوتے رہتے ہو اور اللہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ والے رات کو جاگتے ہیں یہ دوپہر کو قیلولہ کر لیتے ہیں اسمیں بھی آکر تم مخل ہوتے ہو خبردار جو کبھی دوپہر میں آئے جب خانصاحب کا آنا بند ہوا مگر حضرت نے اپنی زبان سے کبھی منع نہیں فرمایا مگر باوجود ان اخلاق کے اب حضرت کی رائے کا واقعہ یہ ہے کہ مولوی ظفر احمد حضرت ، مولانا خلیل احمد صاحب سے بیعت ہیں انہوں نے ایک روز حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ کو خواب میں دیکھا عرض کیا کہ حضرت دعاء کر دیجئے کہ میں صاحب نسبت ہو جاؤں حضرت نے فرمایا کہ صاحب نسبت تو ہو مگر اصلاح کی ضرورت ہے لیکن اگر اصلاح کراؤ تو اپنے ماموں سے کرانا اس سے میں مراد ہوں تو دنیا میں رہنے والوں کی اور آخرت میں دیکھنے والوں کی سب بزرگوں کی ، رائے یہاں کے قواعد اور ضوابط اور اصول کے نافع ہونے پر متفق ہے ـ
