ملفوظ (232) عدم مناسبت سے اصلاح نہیں ہوسکتی :

ایک نووارد صاحب سے حضرت والا نے دریافت فرمایا کہ کچھ کہنا ہے عرض کیا کہ اس وقت توکچھ کہنا نہیں کوئی تنہائی کا وقت مل جائے تو اس وقت عرض کروں گا فرمایا کہ تنہائی کا وقت میرے پاس نہیں نہ اتنی فرصت اس کی دوسری صورت یہ ہے کہ مجھ کوایک پرچہ لکھ کر دیدو اس کو میں ہی پڑھوں گا یہ بھی تنہائی ہی ہے عرض کیا کہ لکھ کربکس میں ڈال دوں فرمایا تم کواختیار ہے میں نے ایک صورت سہل تم کوبتلادی ہے یہ فرما کردریافت فرمایا کہ میں نے تم کو پہچانا نہیں اور نہ تم نے خود ہی کوئی تعارف کرایا عرض کیا کہ میں سہارنپور کے قریب ایک گاؤں ہے وہاں کا رہنے والا ہوں ۔ دریافت فرمایا کہ اس کا کچھ نام نہیں یہ گول مول اور ادھوری باتیں کیوں کرتے ہو کیا اس سے اذیت نہیں ہوتی کیا بدفہمی کا کوئی خاص مدرسہ ہے کہ تم لوگ وہاں تعلیم پاکر آتے ہو اور یہ بتلاؤ کہ اس آنے سے قبل کبھی خط وکتابت بھی تم نے مجھ سے کی یا نہیں ۔ عرض کیا کہ ایک خط بھیجا تھا اس کا جواب مجھ کو ملا وہ مکان پر بھول آیا۔ فرمایا کہ تمہاری طلب کا حال تو اسی سے معلوم ہوگیا معلوم ہوتا ہے کہ تم میں بے فکری کا بھی مرض ہے عرض کیا کہ راستے میں آکر یاد آیا فرمایا کہ اگر فکر ہوتی تولوٹ کرجاتے اورلیکر آتے عرض کیا کہ اس خیال سے نہیں لوٹا کہ نہ معلوم پھرکب جانا ہو ، فرمایا کہ اب یہ سوال ہے کہ گھرس لے کر کیوں نہیں چلتے تھے کیا اچھا عزر ہے کبھی ایسا بھی ہوا ہے کہ غسل خانہ میں نہانے گئے ہوا اور پاجامہ بھول آئے ہو اور ننگے آکھڑے ہوئے ہو ہم توجب جانیں کہ کوئی ملازمت کو جائے اور سرٹیفیکٹ گھر بھول آئے اس تمام بے فکری کی مشق دین ہی پرہوتی ہے پھر دریافت فرمایا کہ اور آئے کب تھے عرض کیا گیارہ بجے والی گاڑی فرمایا کہ اس وقت ملے تھے عرض کیا کہ نہیں دریافت فرمایا کہ کیوں عرض کیا کہ یہ خیال ہوا کہ شاید سونے کا وقت ہو فرمایا کہ ملنے میں کتنی دیر لگتی ہے عرض کیا کہ تھوڑی سی ، فرمایا کہ اس سے تمہاری آدمیت کا پتہ چلتا ہے تم مجھ سے بلکل مناسبت نہیں اب میں کہتا ہوں کہ تم پرچہ بھی نہ ڈالنا جواب نہ ملے گا عرض کیا کہ غلطی ہوئی فرمایا کہ غلطی ہی کا درجہ بتلارہا ہوں خدانخواستہ انتقام تھوڑا ہی لے رہاہوں میں تم کو کسی مصلح کا پتہ بتلادوں اگا اگر پوچھو گے یہ اس وجہ سے کہ اصلاح فرض ہے اور مجھ سے تمہاری اصلاح ہونہیں سکتی جس وجہ سے عدم مناسبت ہے چنانچہ اسی تھوڑی سی دیر میں تین باتیں ثابت ہوئیں ۔ طلب کی حقیقت بے فکری ۔ آدمیت اس لئے تم کو دوسری طرف رجوع کرنا چاہئے جس سے مناسبت ہو پھر فرمایا کہ میں جودوسرے کے سپرد کرنے کو کہتا ہو تو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ عتاب اور اس کا اثر ہے حالانکہ نہ عتاب ہے ، نہ اس کا اثر تو صرف یہ ہے کہ زبان سے شکایت کرلیتا ہوں اور باقی سپرد کردینا یہ مصلحت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اس طریق میں معلوم کا انقباض سد عظیم ( بڑی رکاوٹ) ہے انقباض کی حالت میں کوئی نفع نہیں ہوسکتا اور اس کا سبب عدم مناسبت ہے جب تناسب نہیں خاک نفع نہیں ہوسکتا جب نفع نہیں تو کیوں میں اس کو مجبور کروں اور کیوں خود پریشانی اور کلفٹن اٹھاؤں اٹھاؤں ہوتو ان چیزوں کو بھی برداشت کروں اس لئے دوسروں کے سپرد کردیتا ہوں جہاں انقباض نہ ہو۔