ایک مولوی صاحب کے سوال کے جوا ب میں تحریر فرمایا کہ یہ سوال آپ کا بے محل ہے ایسے سوالات سے مخاطب کو تنگی ہوتی ہے اور دوسروں کے اقوال کا کیا میں ذمہ دار ہوں کیا ان کا قول کس مجتہد کا قول ہے جس کا اتباع ضروری یا واجب ہو اس لئے اس وقت اس کا نقل کرنا عبث ہے اور آداب مناظرہ تو امور طبعیہ ہیں طبیعت خود بخود بتلاتی ہے تو دوسروں کا قول جو مخاطب کے مسلمات سے نہ ہو خود آداب مناظرہ کے خلاف ہے۔
