ایک گاؤں کے آدمی نے تعویذ مانگا اور یہ نہیں کہا کس چیز کے لئے تعویذ کی ضرورت ہے اور بھی چند درخوستیں کیں وہ بھی ایسی ہی مبہم ۔ اس پر حضرت والا نے مواخذہ فرماتے ہوئے فرمایا کہ میں ہی تمہارے رگ و ریشہ سے واقف ہوں خوب نبض پہچانتا ہوں ادھوری بات کہی جس کو کوئی سمجھ ہی نہ سکے چاہتے یہ ہیں کہ دوسرا آدمی ہمارا تابع رہے اور ہم کسی کے تابع نہ ہوں ۔
عرض کیا کہ قصور ہوا معاف کر دو فرمایا کہ معافی کو میں پھانسی تھوڑا ہی دے رہا ہوں مگر کیا غلطی پر متنبہ بھی نہ کروں اسی میں گیہوں اسی میں جو یہ بھی کوئی کھیتی سمجھ لی ہے کہ تعویذ بھی دیدو دعا بھی کر دو خیر اس کا بھی مضائقہ نہیں تھا مگر ساتھ ہی بندہ خدا دوسروں کے بکھیڑے بھی اسی طرح باندھ کر لایا ہے جیسے یہاں سے ایک پلے میں نمک اور ایک میں مرچ ایک میں ہلدی ایک میں تمباکو باندھ کر لے جائے گا یہ گاؤں والے ہوتے ہیں بڑے ہوشیار خبردار جو کبھی دوسروں کے بکھیڑے بھی لے کر آیا آج تعویذ نہیں ملے گا کل کو آ کر پوری بات کہنا اور اگر عقل نہ ہو تو یہاں کسی سے پوچھ لینا کہ پوری بات کس طرح ہوتی ہے پھر کبھی گڑبڑ کرے ۔
