(ملفوظ 38)افراط وتفریط سے عالم بھرا پڑا ہے :

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ اسی واسطے میں کہا کر تا ہوں کہ اعمال کی ظاہری صورت کی بھی حفاظت کی سخت ٖضرورت ہے مگر صرف صورت ہی پر قناعت مت کرو اس کی بھی کو شش کرو کہ رو ح
پیدا ہوا اگر آپ کسی پر عاشق ہوجائیں تو کیا آپ یہ پسند کریں گے کہ محبوب
کے آنکھ نہ ہو کان نہ ہوں ناک نہ ہو یا یہ سب ہوں مگر محبوب میں روح نہ ہو اس وقت تو اس کی طرح رخ کرتے کو بھی جی نہ چاہے گا اور اس کے پاس
کھڑے ہونے کو بھی پسند نہ کر وگے خلاصہ یہ ہے کہ ظاہر اور باطن دونوں
کے اہتمام کی ضرورت ہے نہ ظاہر بدون باطن کے ٹھیک اور نہ باطن بدون ظاہر ک ٹھیک اس جسد بلا روح کے غیر محبوب ہونے پر استطر اد و تفریعا ایک اور
مضمون یاد آگیا کہ محبوباب مجازی کا اخیر انجام یہی جسد بلا ورح ہے تو اس حالت کا استحضار کر کے ان سے محبت کا تعلق قطع کردینا چاہئے اسی کو مولانا فرماتے ہیں
عاشق بامرد گان پابند نیست زان کہ مردہ سوی مائندہ نیست
عشق بامردہ نہ باشد بائدار عشق را باجی باقیوم دار
عشق ہائے کزپئے رنگے بود عشق نبود عاقبت ننگے بود
( مردوں کے ساتھ عاشقی پائدار نہیں ہے کیونکہ مردہ ہماری طرف ( لوٹ کر ) آنے والانہیں ( جب عشق مردوں کے ساتھ پائدار نہیں ہے توحی وقیوم کے ساتھ عشق کرو کیونکہ جو عشق رنگ و روغن کی وجہ سے ہوتا ہے وہ عشق
نہیں ہوتا (اس کا نتیجہ ) آخرکار شرمندگی ہوتی ہے اس کے عشق میں غرق ہوجاؤ جس کے عشق میں اولین و ٖآخرین سب غرق ہیں )
آگے اس کی ضد پر ضد کی تفریح اور محبت اصلی محل فرماتے ہیں
غرق کیشقے شوکہ غرقست اندریں عشق ہائے اولین و آخریں
اب یہ سوال ہوتا ہے کہ یہاں پر تو عاشق اس لئے ہوتے ہیں کہ محبوب تک رسائی کی امید ہے وہاں ہماری رسائی کہاں مولانا اس شبہ کا جواب فرماتے ہیں
تو مگو مارا بدں شہ باز نیست باکریماں کارہا د شوار نیست
اس مصر عہ ثانیہ میں شبہ کی جڑ قطع کردی یعنی بے شک ہماری کوشش سے رسائی مشکل ہے لیکن وہاں تو ان کے کرم سے رسائی ہوتی ہے اور کریم کو کچھ مشکل نہیں وہ اپنے کرم سے خود ہی سب کچھ کردیتے ہیں مگر شرط یہ ہے کہ طلب کو ضرور دیکھتے ہیں ورنہ بدون طلب کے یہ فرماتے ہیں
انلزمکموھا وانتم لھا کارھون خواہ طلب ضعیف ہی ہو اٹھ کر چلو تو سہی آگے
وہ سب کچھ کر لیں گے صورت تو بناو روح بھی خود ہی پھونک دیں گے آج کل تو چاہتے یہ ہیں کہ تعویزوں گنڈوں سے یا کسی کے تصرف سے کام چل
جائے خود کچھ نہ کرنا پڑے اگر یہ ہے تو پھر روٹی سامنے رکھ کر بھی بیٹھے
رہا کر و خوبخود منہ میں جاکر حلق کے نیچے اتر جایا کرے گی کیا بیہودگی ہے
اگر آدمی کو خود عقل نہ ہو فہم نہ ہو تو دوسرے کا اتباع توکرے جووہ تعلیم کرے اس پرعامل ہو اب تو حالت یہ ہے کہ اول تو اس راہ کی طرف آتے ہی نہیں اور اگر آئے بھی تو یا تو طریق میں غلطی کرتے ہیں جیسا ابھی بیان ہوا
یا ثمرات میں غلطی کرتے ہیں یعنی یہ چاہتے ہیں کہ کشفیات ہوں لذات ہوں
کچھ نظر آنے لگے سو ایسی توجہ کی توہ وہ حالت ہوئی ہے
اگر غفلت سے بازآیا جفا کی تلافی کی ظالم نے تو کیا کی
غرض کہ اعتدال نہیں افراط و تفریط سے ایک عالم کاعالم بھرا پڑا ہے اس حالت میں اگر کوئی طبیب شفیق چاہتا بھی ہے کہ ان کے گلے سے نیچے کچھ
زبرد ستی ہی پہنچا دیا جائے تو اس پر جبڑا بند کرکے دانت پیستے ہیں اور ادنی چرکہ کی بھی برداشت نہیں اسی کو مولانا رومی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں
گر بہر زخمے تو پر کینہ شوی پس کجا بے صیقل آئینہ شوی
( اگر برزخم سے تم کو گواری ہو تو آئینہ کی طرح تم کس طرح صاف شفاف ہوسکتے ہو ۔ 12)
4/ ربیع الاول 1351 ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم یکشنبہ