ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اہل اللہ اور خاصان حق کی شان ہی جدا ہوتی ہے ان کی تکالیف ظاہری بھی ان کے لئے موجب راحت باطنی ہوتی ہیں اس لئے ان کی حالت کا دوسروں کو اپنی حالت پرقیاس کرنا بلکل ہی غلط ہے مولانا رومی رحمہ اللہ اسی کو فرماتے ہیں
کارپاکان راقیاس از خود مگیر، گرچہ ماند درنوشتن شیر و شیر
چنانچہ حضرت شیخ عبدالقدوس صاحب گنگوہی رحمہ اللہ پرجب فقرہ وفاقہ ہوتا تو کبھی ان کی بیوی چونکہ ان کے پیر کی بیٹی تھیں کہتیں کہ حضرات اب تو تحمل نہیں کچھ کھانے پینے کا انتظام کرنا چاہئے تو بیوی کے جواب میں فرماتے انتظام ہورہا ہے گھبراؤ مت وہ دریافت کرتیں کہاں ہورہا ہے فرماتے جنت میں ماشاءاللہ وہ بی بی بھی ایسی تھیں کہ جنت کے وعدہ پران کو سکون ہوجاتا تھا اب تویہ حالت ہے کہ ایمان رہے یا جائے آمدنی ہوروپیہ ہو، عیش وعشرت میں کوئی فرق نہ آجائے چاہے اللہ اور رسول کے تعلقات میں کیسا ہی فرق آجائے ۔
