( ملفوظ 363) احکام دین جدید تحقیقات کے محتاج نہیں

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا آج کل بعض کا یہ خیال ہے کہ ہم اپنے احکام دینیہ میں صنائع یا تحقیق کے محتاج ہیں ـ شیطانی دھوکہ ہے ـ بحمد اللہ ہم کو قیامت تک کے لۓ کسی کا محتاج نہیں چھوڑا بلکہ بعض اوقات ان پر مدار رکھنے میں سخت گڑبڑ ہو جاتی ہے ـ دیکھۓ ان احکام میں طلوع وغروب کے بھی مسائل ہیں ـ یہ تحقیق جدید ہے کہ آفتاب طلوع حسی سے ذرا پہلے نظر آنے لگتا ہے اور غروب حسی کے بعد تک نظر آتا رہتا ہے ـ سو اگر اس تحقیق پر عمل کیا جاوے تو پہلی صورت میں عین طلوع کے وقت فجر کی ادا نماز جائز ہو کیوں کہ واقع میں ابھی طلوع نہیں ہوا ـ دوسری صورت میں عین غروب کے وقت مغرب کی ادا نماز جائز ہو کیوں کہ واقع میں غروب ہو چکا ہے تو شریعت نے حسی طلوع و غروب پر احکام کا مدار رکھا ہے ـ نہ کہ حقیقی طلوع و غروب پر ـ اسی طرح اگر صنائع جدید کا احکام میں اعتبار ہو تو احکام شرعیہ میں خلل پڑ جاۓ ـ مثلا آلہ بکرا لصوت سے تکبیرات انتقالات سن کر رکوع سجود کیا جاوے تو نماز ہی فاسد ہو جاۓ ـ