اس کا ذکر تھا کہ اگر مسلمان احکام اسلام کی پابندی پوری طرح کریں تو غیرمسلم اقوام پراس کا اثربہت زیادہ ہوتا ہے فرمایا ایک ماہواری رسالہ میں ایک انگریز کے رسالہ کا ترجمہ نکلا تھا میں نے اس میں حکایت دیکھی کہ وہ انگریز عرب کے کسی علاقہ میں سیاحت کے لئے گیا اور اس نے وہاں چند بدوی رہنمائی وغیرہ لے لئے ملازم رکھے جواس کے ساتھ گھوڑوں پر سوار ہوکر رہتے تھے اور کوئی کام بدویوں نے بغیر اس کی اجازت ایک دم گھوڑے روک لیے اس کو تعجب ہوا کہ بدون اس کی اجازت کے یہ کیا کیا دیکھا تو وہ سب اترکر کسی جگہ پانی جمع تھا وہاں پہنچے اور وضو کرکے صف بستہ کھڑے ہوکر نماز ادا کرنے لگے اس نے یہ منظر پہلی ہی بار دیکھا تھا ان کو دیکھتا رہا وہ انگریز لکھتا ہے کہ جس وقت میں نے ان کو اس حالت میں دیکھا ہے تو ان کی ایک عظمت میرے قلب میں پیدا ہوئی ادھر میں نے اپنے کو دیکھا کہ الگ کھڑا ہوں تو اس وقت میں ان کی صف سے الگ کھڑا ہوا ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جیسے ایک معززجماعت کے سامنے ایک ذلیل آدمی کھڑا ہو بس یہ اول تاریخ تھی جس میں مجھ کو اسلام کے ساتھ محبت ہوئی اوراس کے بعد سے مجھ کو ان بدوؤں پرحکمرانی کرتے ہوئے شرم معلوم ہوتی تھی فرمایا یہ انگریز اس ورز سے محبان اسلام میں داخل ہوگیا گو مسلمان تو نہیں ہوا مگر اسلام کی محبت وقعت وعظمت اس کے قلب میں پیدا ہوگئی فرمایا کہ ایک دوسرا واقعہ ہے یہاں کے ایک رئیس بیان کرتے تھے کہ ریل کے سفر میں میرا ایک انگریز کا ساتھ ہوگیا میں نماز کے وقت پرنماز پڑھنے لگا وہ اس سے قبل بہت ہی آزادی سے کمر لگائے ہوئے بیٹھا ہوا اخبار دیکھ رہا تھا مگر مجھ کو نماز پڑھتے دیکھ کر اس نے پھرکمرنہیں لگائی نہایت ادب کے ساتھ پاؤں سمیٹ کر بیٹھ گیا انہی رئیس کا ایک دوسرے ہمراہی سفر انگریز کے ساتھ ایک واقعہ ہے کہ ان کو استنجے کی ضرورت ہوئی یہ ریل کے ڈبہ میں ٹہلتے ہوئے استنجا سکھلانے لگے فراغ کے بعد انگریز نے ان سےکہا کہ میں کچھ پوچھ سکتا ہوں انھوں نے کہا کہ ضرور کہنے لگا یہ طریقہ استنجا سکھانے کا کیا اسلام کی تعلیم ہے کہ سب کے سامنے اس طرح پراستنجا سکھایا جائے انہوں نے جواب دیا کہ یہ میرا فعل ہے اسلام کی تعلیم نہیں کہنے لگا مجھ کو بھی تعجب ہوا کہ اس طریق میں توایک قسم کی بے حیائی ہے اوراسلام نہایت مہذب مذہب ہے وہ ایسی بے حیائی کی تعلیم نہیں دے سکتا دیکھئے اس پر کس قدر اثرہوا ۔
