(ملفوظ 314) احکام طریق بالکل مفقود ہوگئے

ایک صاحب کی غلطی پرتنبیہ فرماتے ہوئے فرمایا کہ اسی واسطے میں کہا کرتا ہوں کہ پہلے بذریعہ خط آنے کے متعلق دریافت کرلیں تاکہ میں طے کرسکوں کہ کس لئے آئے ہو تاکہ بعد میں کسی قسم کی بے لطفی بے مزگی نہ ہو یہاں آکر گڑبڑ کرتے ہیں سمجھانے پربھی نہیں سمجھتے اس پر مجھ کو تغیر ہوتا ہے اور جب میں متنبہ کرتا ہوں تو مخاطب کو تکلیف ہوتی ہے پھر شکایت کرتے ہیں افسوس ! اس زمانہ میں طریق کے احکام بالکل مسدود بلکہ مفقود ہوگئے آکروہ احکام کانوں میں پڑتے ہیں لیے وحشت ہوتی ہے اور مجھے متشدد کہتے ہیں حالانکہ میں اتنی رعایتیں اور سہولتیں کرتا ہوں کہ حقیقت شنا سوں کو اس کی ضد کا شبہ ہوجاتا ہے چنانچہ خورجہ میں ایک بزرگ ولائتی ہیں میں ان سے ملا بھی ہوں میرے متعلق ان کی یہ رائے ہے کہ ساری باتیں اچھی ہیں مگر مزاج میں مداہنت ( ڈھیلا پن ) ہے سو یہ شبہ توکسی درجہ میں ہو بھی سکتا ہے مگرلوگوں کی رائے میں طریق کا تھوڑا سا بھی حق ادا کرنا تشدد ہے اور میں تو اس طریق کا کیا حق ادا کرتا ذرا شیخ محی الدین ابن عربی رحمتہ اللہ علیہ کا رسالہ آداب الشیخ والمرید دیکھنا چاہئے کہ کیا کچھ لکھا ہے میرے یہاں تو اس کا عشر عشیر بھی نہیں جو انہوں نے مرید اورشیخ کے اداب اور طرز تعلیم کو لکھا ہے اور یہ راہ تو عشاق کے لیے ہے جس کی اول شرط وہ ہے جس کو فرماتے ہیں
دررہ منزل لیلے کہ خطرہا ست بجاں ٭ شرط اول قدم آنست کہ مجنون باشی
( لیلی کے وصال کے راہ میں جان کو نہت خطرات ہیں ۔ مگر اول شرط یہ ہے کہ مجنون بنو 12۔) ہر مطلوب کے لیے شرائط ہونے پرایک حکایت یاد آگئی ایک خان صاحب کسی درویش کے پاس کیمیا سیکھنے گئے اور ان کو بہت پریشان کیا آخر انہوں نے اپنی جان بچانے کے لیے کہا کہ مولوی غوث علی شاہ صاحب جانتے ہیں اس خیال کے کہ مولوی صاحب ذہین ہیں خان صاحب کا ان کے یہاں علاج جائے گا خان صاحب نے وہاں جاکر کہا کہ کیمیا بتلا دو فرمایا نہیں بتلاتے کوئی تمہارے باوا کے نوکر ہیں کیا کیمیایوں ہی بتلادی جاتی ہے ۔ خدمتیں کرو بھی کبھی مزاج درست ہوگا بتلادین گے خان صاحب ڈھیلے ہوئے شام کو گھا نس پات ابال کرخان صاحب کے سامنے رکھوا دیا کہ کھائیے کہا کہ منہ میں چلتا نہیں شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ اللہ اکبر اسی برتے پرچلے تھے کیمیا سیکھنے ابھی تو اسکی یہ منزل ہے کسی نے خوب کہا ہے
ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا ٭ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا
خاں صاحب کہتے ہیں کہ اگر کیمیائی اس طرح حاصل ہوتی ہے تولعنت ہے ایسی کیمیا پر
شاہ صاحب نے فرمایا کہ بے شک قابل لعنت تو ہے ہی حضرت کیمیا کیسی ادنی درجہ کی سی چیز ہے مگر بڑے بڑے شان والے لگونٹ بندوں کے پیچھے پھرتے ہیں اور وہ منہ بھی نہیں لگاتے جس کو وجہ یہ ہے اہل کمال میں ایک استغناء ہوتا ہے وقارالامراء زیارت کرنے کے لیے حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب گنج مراد آبادی رحمتہ اللہ علیہ کے یہاں گئے تھے مولانا نے ان کے نکلوادینے کا حکم دیا کہ نکالو صاحب زادے نے کہا کہ وزیرہیں فرمایا کہ ہوگا وزیرہمیں ان سے کیا کچھ لینا ہے بہت سفارش کے بعد دیکھا ہے کہ بڑے بڑے رئیسوں کو جھڑک دیتے تھے اور وہ خاموش بھیگی بلی کی طرح سرجھکانے سنتے رہتے تھے محض اپنی غرض سے کہ صحبت جسمانی کے لیے جاتے تھے اور جہاں صحت نفس کے لیے جاتے ہیں وہاں انقیاد اور فنا کی کیسی حالت ہونا چاہئے ظاہرہے ۔