(ملقب بہ احکام التبرکات ) ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ اس جبہ کے متعلق جو کہ جلال آباد میں ہے اصل چیز جو قابل تحقیق اور قابل غور ہے دوامر ہیں ایک تویہ کہ اس کے ثبوت کا درجہ کیا ہے اورایک یہ کہ اس کے ساتھ معاملہ کیا کرنا چاہئے سواس کو ایک مثال سے سمجھ لیجئے جیسے ایک سیدھا ہو اور اس کے سید ہونے میں اختلاف ہوتواس کا درجہ ثبوت تومحض احتمال ہے اور اس کے ساتھ معاملہ ہرشق میں احتیاط کا کیا جاوے گا مثلا اس کا احترام بھی کیا جاوے گا اور اس کو زکوۃ بھی نہ دی جاوے گی اورجوشخص یہ احتیاط نہ کرے اس سے نزاع بھی نہ کیا جاوے گا ۔ دیکھئے سعد بن وقاص کے بھائی عتبہ نے حضرت سعد کو زمعہ کی لونڈی سے جوان کا لڑکا پیدا ہوا تھا وصیت کی تھی کہ اس پرقبضہ کرلینا وہ میرے نطفہ سے ہے مگرحضور ﷺ نے الولد للفراش کے قاعدہ سے وہ لڑکا ان کو نہیں دیا لیکن اشتباہ کے سبب حضرت سودہ کو اس لڑکے سے پردہ کرنے کاحکم دیا سو اس واقعہ میں حضورﷺ نےاس قدر ضعیف احتمال پر احتجاب کا وہ معاملہ کیا جیسا کہ اصل کے ساتھ یعنی عتبہ سے اس لڑکے کا نسب ثابت ہوتا معاملہ کیا جاتا آج سمجھ میں آیا یہ دونوں باتیں آج ہی سمجھ میں آئیں آپ نے سوسمار نہیں کھایا اس احتمال پرکہ یہ کوئی امت مسموخہ نہ مگر چونکہ اس وقت تک یہ محض احتمال کے درجہ میں تھا اس لئے دوسرون کو منع بھی نہیں کیا دیکھئے آپ نے اپنی ذات کے لئے احتمال کے ساتھ وہ معاملہ کیا جوحقیقت کے ساتھ کیاجاتا مگر دوسروں کو مجبور نہیں کیا اسی طرح یہاں پربھی دوسروں کو اس جبہ سے برکت حاصل کرنے پرمجبورنہ کیا جاوے اور خود اگرچاہے برکت حاصل کرے اورمیں نے ایک اور صاحب کے سوال کے جواب میں یہ بھی لکھا ہے کہ تعزیوں کو اس پرقیاس نہ کیا جاوے کیونکہ وہاں مانع شرعی موجود ہے کہ یہ آلہ ہے شرک اورکفر کا ایک شخص نے حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ کو اس طرح خواب میں دیکھا کہ حضرت جلال آباد کا یہی جبہ پہنے ہوئے ہیں حضرت مولانا محمد قاسم صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے تعبیر فرمائی کہ حضرت سنت کے متبع ہیں توحضرت کے ارشاد سے اس کو صحیح سمجھنے کی گنجائش معلوم ہوتی ہے ۔ حضرت مولانا گنگوہی رحمتہ اللہ علیہ نے میرے خط کے جواب میں اس کے متعلق تحریر فرمایا تھا کہ اگر منکرات سے خالی موقع مل جائے توزیارت سے ہرگز ہرگز دریغ نہ کریں میں نے اس میں ایک مقدمہ اور ملایا ہے کہ شرعی مخدوم بھی نہ ہوزیارت کرنے میں اس مقدمہ کوملانے کے بعد مطلق زیارت کرنے میں جبکہ منکرات سے پاک ہو کوئی قباحت نہیں رہتی ۔
حضرت شاہ عبدالعزیزصاحب رحمتہ اللہ علیہ نے ایسی چیزوں کے متعلق کسی تحریرمیں جس کی تعیین یاد نہیں فرمایا ہے کہ جب حضور ﷺ کا نام آگیا توہمیں احترام ہی کرنا چاہئے اوراس جبہ کے متعلق بعض اوقات اس کے خدام میں مشہور ہیں مثلا کوئی شخص زیارت کو آیا اورمخلص نہ ہوتو قفل نہیں کھلتا دوسرے وقت کھل جاتا ہےاور ایک برکت توخاص معلوم ہوتی ہے وہ یہ کہ اس کے جوخدام ہیں وہ لالچی نہیں اگر کوئی کچھ بھی نہ دے تو غریب زیارت کراکرچلے جاتے ہیں جوکھانے کو دیا کھالیتے ہیں خود وہ بھی طلب نہیں کرتے ۔ ایک شخص تھے حاجی عبدالرحیم میرے بھائی کے کارندہ وہ بیان کرتے تھے کہ ایک شخص غریب آدمی تھا اس کو کچھ ضرورت ہوئی کہیں سے ادھار نہیں ملا تو اس نے قرآن شریف لے جاکر ایک ہندو سے کہا کہ اس کو رکھ لو اور دو روپیہ دیدو اس نے بڑے ادب واہتما م سے لے لیا اوردو روپیہ دیئے جب اس شخص میں وسعت ہوئی تو یہ اس ہندو کے پاس گیا اور کہا کہ یہ روپیہ لیلو اور قرآن شریف دیدو اس ہندو نے ہاتھ جوڑکر کہا کہ اگر لیجاؤ توتمہارا قرآن ہے لیکن اگرچھوڑدو تو بڑا احسان ہوگا جس روز سے یہ قرآن دکان میں آٰیا ہے بڑی برکت معلوم ہوتی ہے اور اس جبہ میں اورتغریوں میں فرق بیان کرتے ہوئے یہ بھی فرمایا کہ یہ تو تغریوں کا حکم اصلی ہے باقی بعض عوارض کی وجہ سے یہ بدل بھی جاتا ہے اس کے متعلق ایک واقعہ بیان فرمایا کہ ایک گاؤں ہے کانپور کے ضلع میں گجنیر پورپ میں وہاں کے لوگوں کے متعلق شدھی ہونے کی خبرسنی تھی میں اس گاؤں میں ایک مجمع کے ساتھ گیا اوراس باب میں ان لوگوں سے گفتگو کی ان میں ایک شخص تھا جوذرا چودھری سمجھا جاتا تھا میں نے اس کو بلا کردریافت کیا کہ سنا ہے کہ تم شدھی ہونےکو تیار ہو اگرتم کواسلام میں کچھ شک ہوہم سے تحقیق کرلو اس نے کہا کہ میرے یہاں تعزیہ بنت ہے ( بنتا ہے ) پھرہم ہندو کا ہے کوہونے لگے میں نے اس کو تغریہ کی اجازت دیدی کیونکہ یہاں عارض کے سبب یہ بدعت وقایہ تھی کفرکی اور میری اس اجازت کا ماخذ ایک دوسرا واقعہ تھا کہ اجمیر میں حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے اہل تعزیہ کی نصرت کا فتویٰ دیدیا تھا قصہ یہ تھا کہ مولانا ایک زمانہ میں اجمیر تشریف تشریف رکھتے تھے عشرہ محرم کا زمانہ آیا اور غالبا ایک درخت کے نیچے سے تعزیہ کے گذرنے پرشیعی صاحبان اور ہندوں میں جھگڑا ہوا اب صورت یہ تھی کہ اگرتنہا شیعی صاحبان مقابلہ کریں توغلبہ کی امید نہ تھی اس لئے کہ ان کی جماعت قلیل تھی اورہندوں کی کثیر اس بناء پرشہر اجمیر کے عمائد مسلمان سنیوں نے مقامی علماء سے استفتا کیا کہ یہ صورت ہے ہم کوکیا کرنا چاہئے وہاں کے علماء نےجواب دیا کہ بدعت اور کفر کی باہم لڑائی ہے تم الگ رہنا چاہئے پھراہل شہر جمع ہوکر مولانا کے پاس آئے اورکل واقعہ عرض کیا اور کفر کی لڑائی ہے مگر یہ بھی تودیکھنا ہے کہ کیا ہندواس کو بدعت سمجھ کر مقابلہ کررہے ہیں یا اسلام سمجھ کرمقابلہ کررہے ہیں سویہ بدعت اور کفر کی لڑائی نہیں بلکہ اسلام اور کفر کی لڑائی ہے یہ شیعی صاحبان کی شکست نہیں بلکہ اسلام اور مسلمانوں کی شکست ہے لہذا اہل اتغریہ کی نصرت کرنا چاہئے اسی طرح تعزیہ بدعت ضرورہے لیکن وہاں میں نے اس کووقایہ کفر سمجھ کراجازت دیدی ہمارے بزرگ بحمداللہ جامع بین الاضداد تھے جو محقق کی شان ہوتی ہے ۔
