ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ یہ مرج آج کل بہت عام ہوگیا ہے کہ احکام اور مسائل میں رائے لگاتے ہیں جس کا مطلب یہ ہوا کہ شریعت مقدسہ کو اپنے تابع بنانا چاہتے ہیں کہتے ہیں ہمارے خیال میں یوں ہونا چاہئے اس بدفہمی کا کیا علاج کہ خالق کے مقرر کردہ احکام میں رائے زنی کرتے ہیں ۔ ارے تم ہو کیا چیز اور تمہارا خیال ہی کیا ہے یہ تو ایسا ہے جیسے ایک دانسشمند انسان کی رائے پرچند بھنگے مل کررائے دیں یا پانی کے اندر جوخرد بین سے کیڑے نظرآتے ہیں وہ کسی دانشمند انسان کی رائے کے مقابلہ میں اپنی رائے پیش کریں اور اپنے خیال کا اظہار کریں سو جونسبت ان کیڑوں کو انسان سے ہوگی بندوں کو حق تعالٰٰی سے اتنی نسبت بھی نہیں ان کی ذات وراءالوراء ہے چہ نسبت خاک رابعالم پاک ہی لوگوں کی نسبت کہا گیا ہے
گربہ میروسگ وزیروموش رادیواں کنند ایں چنیں ارکان دولت ملک راویراں کنند
( بلی کو صدر سلطنت اور کتے کو وزیراعظم اور چوہے کو وزیرمملکت بنادیں توایسے ارکان دولت ملک کوویران کردیں گے )
واقعی بات یہ ہے کہ حق تعالٰی خود اپنے دین کے محافظ ہیں ورنہ نہ معلوم اگران اہل الرائے کے قبضہ میں اسلام اور احکام ہوتے توان کی کیا گت بناتے وہ تو غنیمت ہے ان کے قبضہ میں کچھ ہے نہیں چنانچہ حق تعالٰی فرماتے ہیں انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون ۔ ( ہم نے قرآن کو نازل کیاہے اورہم اس کے محافظ ہیں ۔ 12)
سوجب دین کے وہ خود محافظ ہیں بھلا اس کو کون مٹاسکتے ہے گوان بدفہموں نے تو مٹانے میں کوئی کسراٹھا نہیں رکھی اس لئے کہ ان کا مکراور دام کچھ کم نہیں اسی کو فرماتے ہیں
چراغ راکہ ایزد برفرد زد، ہر آنکس تف زندریشیش بسوزد (جس چراغ کوحق تعالٰی روشن فرمادیں اس کے بجھانے کی جوکوشش کرے گا اس کی داڑھی جل جاوئے گی ۔ 12)
اور فرماتے ہیں
اگر گیستی سراسر بادگیرد چراغ مقبلاں ہر گز نہ میرد
( اگر تمام روئے زمین میں آندھیاں آجاویں تب بھی خاصان خدا کا چراغ گل نہ ہوگا )
15/ ربیع الاول 1351ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم پنجشنبہ
