(ملفوظ 74)اہل باطل سے دشمنی خطرناک ہے:

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اہل باطل سے دشمنی ہونا بھی نہایت ہی خطرناک ہے دین تو ان کے قلب میں ہوتا نہیں اور اس کے نہ ہونے کی وجہ سے خدا کاخوف بھی قلب میں نہیں ہوتا اس ہی لئے بددین کی دشمنی خطرناک ہوتی ہے کیونکہ اس کے یہاں کوئی حدود یا آئیں تو ہوتے ہی نہیں وہ جوچاہے کرسکتاہے جوجی آئے کہہ سکتاہے بخلاف اہل حق اوراہل دین کے کہ وہ حدود سے تجاوز کرکے دشمنی بھی نہیں کرسکتے دل میں خدا تعالیٰ کا خوف ہوتا ہے اپنی آخرت خرا ب ہونے کا ہروقت خیال رہتا ہے وہ کیسے حدود سے تجاوز کرکے کسی کو ایذاء پہنچا سکتا ہے مگرحق تعالیٰ ان کے لیے انتقام لیتے ہیں ۔
دیکھئے کہ حضرت مولانا گنگوہی ؒ حضرت مولانا محمد قاسم ؒ وحضرت مولانا شہید ؒ کیسی تو ہسپتال ، پھر افسوس ہےکہ ایسی مقدس ہستیوں کو کافر کہا جاوے العیاذبااللہ پھرکیوں نہ ان لوگوں پروبال آوے مگریہ لوگ ایسے بدفہم ہیں کہ وبال کو کمال سمجھتے ہیں چنانچہ ان ہی میں ایک خاں صاحب نے خواب دیکھا کہ دوزخ کی کنجی میرے ہاتھ میں رکھی گئی ان کے متبعین اور معتقدین نے اس سے یہ مطلب نکالا اورتعبیر بیان کی کہ اعلحضرت جس کو چاہیں گے اپنے فتوے سے دوزخ میں داخل کردیں گے میں نے سن کر کہا کہ یہ تعبیرمحض غلط ہے کسی کو جہنم میں داخل کرنا کس کے اختیار میں ہے بلکہ اس کی تعبیریہ ہے کہ یہ لوگوں کے عقائدتباہ کرکے فاتح ہورہے ہیں ابواب نارکے ۔
اسی سلسلہ میں ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ بیعت کے وقت طالب سے یہ بدعتی لوگ یہ شرط کرتے ہیں کہ بہشتی زیور مت دیکھنا فرمایا کہ یہ شرط ان کی حالت کے بالکل مناسب ہے وہ تودوزخی زیور کے مستحق ہیں ان کو بہشتی زیور سے کیا تعلق پھرفرمایا کہ یہ لوگ ایسے بے عقل ہیں کہ یہ بہشتی زیور پراعتراض کرتے ہیں حالانکہ اس میں مختار، شامی وغیرہ کے مسائل ہیں جن کو وہ مانتے ہیں ۔
تویہ ایسا قصہ ہو ا کہ جیسے ایک شخص نے اپنے حقیقی بھائی کو ماں کی گالی دیں اس پرکسی نے کہا کہ وہ تمہاری بھی تو ماں ہے کہا کہ اس میں دوحیثیتیں ہیں اس کی ماں ہونے کی اور ایک میری ہونے کی تو اس کی ماں ہونے کی حیثیت سے تو وہ ایسی ہی ہے اور میری ماں ہونے کی حیثیت سے مکرمہ معظمہ ہے تو اسی طرح یہاں بھی وہ مسائل اس حیثیت سے کہ ان کی نسبت بہشتی زیور میں میری طرف ہے دیکھنے کے قابل نہیں اور اس حیثیت سے کہ درمختار وغیرہ کی طرف منسوب ہیں قابل قبول ہیں کیا ٹھکانہ ہے اس عناد کا ۔ چنانچہ بہشتی زیور میں ایک مسئلہ ہے ا ور ترکیب مذہب میں منصوص ہے مگر بدوں تحقیق اور بدوں سمجھے اعتراض کرنے سے ، غرض اور واقعہ یہ ہے کہ سمجھے تووہ جس کو علم سے مناسبت ہو دوسرے طبیعت میں انصاف اورعدل بھی ہوعناد نہ ہو ۔ نیز سمجھنے کے لیے اس کی بھی ضرورت ہے کہ خالی الذہن ہو ورنہ اگر پہلے ہی سے یہ ارادہ کرلیا جاوے کہ اس کے خلاف کرنا ہے یا کہنا ہے تو پھراگرسمجھ میں بھی آجائے تب بھی نتیجہ وہی نکالا جائے گا جودل میں ہے دہلی میں مولانا شاہ محمد اسحاق صاحب کے زمانہ میں ایک بدعتی مولوی تھے جوہرمسئلہ میں شاہ صاحب سے اختلاف کرتے تھے شاہ صاحب میراں کے بکرے کو حرام فرماتے تھے وہ جائز کہتے تھے ایک سمجھدار شخص نے دیکھا کہ دومولویوں میں اختلاف ہے اور اختلاف بھی حلت اور حرمت کا اس نے نہایت دانش مندی سے دونوں کا اس طرح امتحان لیا کہ ایک روز دونوں کی دعوت کی جب کھانا دسترخوان پرآگیا صاحب خانہ نے دونوں جماعتوں سے عرض کیا کہ یہ جودسترخواں پرسالن ہے یہ میں نے میران کے نام کا بکراکیاتھا یہ اس کا گوشت ہے اب کھانے نہ کھانے کا اختیارہے شاہ صاحب نے توسن کرہاتھ کھینچ لیا مگر تماشا یہ ہے کہ ان مولوی صاحب نے بھی ہاتھ کھینچ لیا اس شخص سے پوچھا کہ آپ کیوں نہیں کھاتے آپ کے نزدیک توحلال ہے اس وقت انہوں نے فرمایا کہ سمجھتا تو میں بھی حرام ہی ہو ں مگرشاہ صاحب کی ضد میں حلال کہہ دیتا ہوں تب اس شخص نے کہا کہ مجھ کو تو امتحان کرنا تھا باقی واقع میں یہ میراں کے نام کا نہیں ہے کھائیے مگر صاحب یہ بھی اس وقت کے لوگ تھے اب اگرایسی بات ہوتو کھابھی جائیں ایسے بددین ہیں ایک مرتبہ ایک بدعتی مولوی صاحب نے اعلان کیا کہ جس چیز کو مولانا شہید حرام کہیں گے میں حلال کہوں گا اور بالعکس مولانا نے فرمایا کہ میں توماں سے نکاح کرنے کو حرام کہتاہوں وہ اس کو حلال کہیں اورمیں کلمہ ایمان کو حلال کہتا ہوں وہ اس کو حرام کہیں بس رہ گئے کوئی جواب بن بہ پڑا مدتوں کے بعد ان سب کی وفات کے بعد ان بدعتی مولوی صاحب کے ایک شاگرد نے جواب دیا کہ ہمارے مولوی صاحب کا اس فرمانے سے مقصود یہ تھا کہ جس کوکیوں نہ سوجھا ۔ غرض یہ حالت ہے ان لوگوں کے بغض وعناد کی اہل حق کے ساتھ بہشتی زیور کے مسائل پراعتراض کے متعلق ایک واقعہ یاد آیا ۔
میں ایک مرتبہ سہارنپور گیا مدرسہ میں بیٹھا ہواتھا اورحضرات بھی وہاں تشریف لائے میرے پاس اس کے قبل ایک خط آیا تھا کہ بہشتی زیور کے فلاں مسئلہ کے متعلق جواب کے لئے آمادہ رہنا وہ مسئلہ شرقی کا غیربیہ سے بواسطہ نکاح کرنے کا تھا میں قرائن سے سمجھ گیا کہ یہ وہی شخص ہیں جوبہشتی زیورپراعتراض کریں گے اس وقت بہشتی زیور پراعتراضات کی بھرمارہورہی تھی آکر پاس بیٹھے اور
بہشتی زیور کھول میرے سامنے رکھ کرکہا کہ اس ک دیکھ لیجئے میں نے کہا کہ دیکھ کرہی لکھا ہے تم اپنا مطلب بیان کرو مجھ کو دکھلانے سے مقصود تمہارا کیاہے یہ مسئلہ سمجھ میں نہیں آیا میں نے کہا ک مسئلہ سمجھ میں نہیں یا اس کی دلیل کہا کہ مسئلہ توظاہری ہے دلیل سمجھ میں نہیں آئی ، میں نے کہا کہ کیا اور سب مسائل کی دلیل سمجھ میں آچکی ہے صرف یہ ہی باقی ہے اگرسب کی دلیل سمجھ میں آچکی ہے تومجھ کو اجازت دیجئے میں آپ کا امتحان کرلوں اور اگراور بھی ایسے ہی مسائل ہیں جن کی دلیل سمجھ میں نہیں آئی تو اس کو بھی اسی فہرست میں داخل کرلیجئے بس بے چارے رہ گئے بالکل مبہوت تھے ۔
بعد میں معلوم ہوا کہ اسی شخص نے حضرت مولانا خلیل احمد صاحب ؒ سے بہت دیر تک اس مسئلہ میں گفتگو کرکے ان کو پریشان کیا تھا حضرت مولانا نے اپنے اخلاق سے سمجھا نے کی کوشش فرمائی مگروہ کوڑ مغز کیا سمجھتا مگرجہل مرکب سے سمجھتے ہیں کہ ہمارے ایسے اعتراضات اور سوالات ہیں کہ جن کا جواب بڑے بڑے علماء نہیں دے سکتے یہ تمیز نہیں کہ ہم میں لیاقت سمجھنے کی نہیں اس کی مثال اس طرح سمجھ لیجئے کہ ایک گنوار شخص کسی اقلیدس جاننےوالے کے سامنے کسی شکل کے متعلق کوئی سوال کرے اوروہ اس کو سمجھائے اور وہ نہ سمجھ سکے تو یہ اس کی کم سمجھی اور عدم واقفیت کہلائے گی یا جوہرفن ہے اور اقلیدس جاننے والاہے اس کو کہیں گے کہ
اس کے پاس جواب نہیں ۔ غرض وہ شخص تو اپنا سامنہ لے کر اٹھ گئے اور چلتے بنے اس کے بعد ایک جنٹلمین صاحب نئی فیشن والے پہنچے السلام علیکم وعلیکم السلام غایت تہذیب سے تمہید اٹھائی کہ حضرت جہلاء علماء کی شان میں گستاخیاں کرتے ہیں برابھلاکہتے ہیں جس سے بے حد دل دکھتاہے اور صدمہ ہوتا ہے اوریہ ایک مسئلہ ہے بہشتی زیور کااس کی وجہ سے بہت کچھ لوگوں کے خیالات میں گڑبڑ ہورہی ہے آپ اجازت دیجئے ہم ایک مجمع کرلیں آپ اس مسئلہ کی حقیقت بیان کردیں اتنی بڑی تمہید اس لئے تھی کہ یہ تعلیم یافتہ طبقے میں سے تھے ان کو اپنی لسانی پربڑا ناز تھا میں نے کہا کہ آپ کو علماء کے ساتھ محبت ہے ان کی طرف سے آپ کے دل میں درد ہے آپ ان کی شان گستاخیاں کرنے والوں سے بیزار ہیں اس پر اظہار نفرت فرمارہے ہیں میں آپ کے ان جذبات کی قدر کرتاہوں یہ سب کچھ میں نے ان کے ہی طرز میں بیان کیا ان ہی کے ایسے الفاظ ہوتے ہیں اس کے بعد میں نے دریافت کیا کہ صرف علماء ہی کی شان میں گستاخی کرنے سے آپکو صدمہ ہوتا ہے اور دل دکھتاہے کبھی آپ نے اس طرف بھی خیال کیا گیا اس گستاخی جماعت کے علاوہ ایک اور جماعت ہے جوائمہ مجتہدین کی شان میں گستاخی ہیں ، اور وہ شیعی ہیں ۔
اوران سے بڑھ کر ایک جماعت ہےجوخداوند جل جلالہ کی شان میں گستاخی کرتی ہیں یعنی دہریہ ، سوان سیکی ک گستاخی پربھی کبھی آپ کادل دکھاتو اس کے انسداد کا کیا انتظام کیا سب سے پہلے بقاعدہ الاھم فالاھم اس انتظامیہ کی ضرورت ہےکہ اللہ کو رسول کو صحابہ کو ائمہ مجتہدین کوکوئی برانہ کہے اور ا ن کی شان میں گستاخی نہ کرے جب آپ کو اس سے فراغ نصیب ہوجائے گا تب پانچویں درجہ میں علماء کے متعلق ہم انتظام کردینگے بس ان جنٹلمین کی ترکی بھی تمام ہوئی ان متکبروں کو اسی طرح جواب دینا چاہئے ان کے دماغوں میں خناس ہے گوبربھرا ہے سمجھتے ہیں کہ ہم خردماغ ہیں میں کہا کرتا ہوں کہ علماء میں بحمداللہ اسب دماغ ہیں یہ بدفہم علماء کواپنا محکوم سمجھتے ہیں میں ان کو منہ نہیں لگاتا اسی وجہ سے بدنام ہوں ان کی نبضیں پہچانتاہوں اور نسخہ بھی ویساہی تجویز کرتاہوں ۔
خیر! بدنام کیا کریں اس سے ہوتا کیا ہے ، ان کے نزدیک علماء کا یہ درجہ ہےکہ میں ایک مرتبہ علی گڑھ گیاتھا ، وقارالملک کالج میں لے گئے وہاں کی مسجد میں جمعہ بھی ہوا۔ اس وقت ایک اخبار ِِِ،،البشیر، اس نے لکھاکہ سرسیدنے ایک کعبہ تیار کیاتھا اب علماء کو بلابلاکراس کو کنیسہ بنانا چاہتے ہیں یہ ان لوگوں کے خیالات ہیں جس پرمسلمانی کا دعویٰ ہےاور قوم کے ریفارمرکہلائے جاتے ہیں اب اگرعلماء ان حرکات پرکچھ کہتے ہیں تواس پرکہاجاتا ہے کہ ان لوگوں کامشغلہ یہی ہے کہ بیٹھے ہوئے کافربنایا کریںیہ الزام ہے علماء پر۔
میں کہا کرتا ہوں کہ علماء کافربناتے نہیں کافر تو خود ہوتے ہیں ان کا علماء کافرہونا بتادیتے ہیں ایک نقطہ کا فرق ہے باقی کا فربنانا تواس کوکہتے ہیں کہ جیسے مسلمان ہونے کی ترغیب دیتے ہیں اسی طرح کافرہونے کی ترغیب دیں توایساکون کرتاہے کالج والوں کا مجھ سے یہ طے ہواتھا کہ وقتافوقتا بلایا کریں گے میں نے وعدہ بھی کرلیاتھا کہ میں آیاکرونگا اس سے تبلیغ ہوگی اور میدان صاف ہوجائے گا مگرشاید اخبارسے مرعوب ہوکرپھربلایا نہیں گیامیں نے ان مضامین کو ضائع کرنا مناسب نہیں سمجھاان کو جمع کرلیا اورانتباہات مفیدہ کے نام سے وہ مجموعہ چھپ بھی گیا ۔
ایک ایسے ہی مذاق والےشخص نے لکھا کہ فلاں مسئلہ میں کیا حکمت ہےمیں نے
جواب میں لکھا کہ سوال عن الحکمت میں کیا حکمت ہے ہم سے تواللہ تعالی ٰ کے احکام کی حکمتیں پوچھی جاتی ہیں جوکہ ہمارے افعال بھی نہیں آپ اپنے ہی سوال کی حکمتیں بتلادیجئے جوکہ آپ کا فعل ہے ایک ایسے ہی صاحب کا جوکہ ایک قریب کے قصہ میں انسپکڑتھے ایک واقعہ یاد آیا ان کا خط آیا تھا لکھاتھا کہ کافرسے سودلینا کیوں حرام ہے میں نے لکھاکہ جہلاء کو بھی اس قدر ترنہ ہونا چاہئے کہ جس سے ڈوب ہی جائیں ان ہی صاحب سے پھرکچھ مدت کے بعد جب میں اس قصبہ میں گیا توملاقات ہوئی کہنے لگے آپ تومجھ کو نہ پہچانتے ہوں گے میں نے کہا کہ واقعی چونکہ اس سے قبل آپ سے ملاقات کا اتفاق نہیں ہوا اس لئے نہیں پہچان سکا کہا کہ وہی شخص ہوں جس نے فلاں سوال آپ سے کیا تھا میں نے کہا کہ آہا آپ سے تو بہت پرانی بے تکلفی نکلی کہنے لگے کہ آپ نے ایساخشک جواب دیاتھا میں نے کہا کہ آپ ایک تھانہ دار ہیں اور ایک علاقہ آپ کے سپرد ہے جس پرآپکی ایک قسم کی حکومت ہے میں یہ پوچھتاہوں کہ کیا تمام علاقہ کے لوگوں سے آپ کا ایک ہی قسم کا برتاؤ ہے یا اہل خصوصیت سے جدا برتاؤ ہے کہنے لگے سب سے ایک قسم کا برتاؤ نہیں میں نے کہا کہ بس اسی طرح قبل ازملاقات آپ سے کوئی خصوصیت نہ تھی اس لیے ایساجواب دیا گیا اب ملاقات وخصوصیت ہوگئی ہے ایسا جواب نہ ملے گا لیکن ساتھ کے ساتھ یہ بھی ہے کہ اس ملاقات کا اثر جیسامجھ پرہوا آپ بربھی ہوگا یعنی آپ بھی مجھ سے کبھی ایساسوال نہ کریں گے میں سوچا کہ میں تومقید ہواہی ہوں ان کوکیوں آزاد چھوڑوں ۔
غرض یہ خشکی ان لوگوں کی غذا ہے اسی طرح سے ان کے دماغ درست ہوتے ہی ایسے جواب ان کو دینے چاہیئں مگر لوگوں نے خلاق کےمعنی سمجھ رکھے ہیں نرم اور شیریں گفتگو کرنے کے اس لئے اس ضابطہ کے برتاؤ کو بداخلاق سمجھتے ہیں اس نرم اورشیریں گفتگو پرایک حکایت یاد آئی ۔
ایک صاحب کا انتقال ہونے لگا تو اپنے بیٹے کو جوکہ بہت احمق تھا وصیت کی کہ بیٹا ! میرے انتقال کے بعد جومیرے دوست احباب تعزیت کوآئیں ان سے نرم شیریں گفتگو کرنا ان کو اونچی جگہ بٹھلانا بھاری کپڑوں سے ملنا قیمتی کھانا کھلانا غرض یہ کہ باپ کا انتقال ہوگیا کسی دوست کوخبر ہوئی وہ بے چارے تعزیت کوآئے مکان پرآکر دستک دی بیٹے صاحب مکان سے باہرتشریف لائے دیکھا کہ مہمان ہیں نوکروں کوحکم دیا کہ ان کومچان پربٹھاؤ چنانچہ بے چارے مچان پربٹھلائے گے اور خود بھاری کپڑے پہننے گئے وہاں سے آئے توتمام بدن قالین اور جاجم سے ملبوس اب مہمان نے دریافت کیا کہ میرے دوست کیا بیمارہوئے تھے کہ کہا روئی دریافت کیا کب انتقال ہوا کہا کہ گڑجب چند سوالات کے جواب میں یہ ہی جواب ملتارہا کہ روئی اور گڑ ! بے چارے خاموش ہوگئے تھوڑی دیرکے بعدنوکروں کوحکم دیاکہ مہمان کو مچان سے اتارو پھروقت پرکھانا آیا ان کے منہ سے نکلا کہ گوشت گلانہیں کہنے لگے خوب میں نے آپ کے لئے پچاس ورپیہ کا کتا کاٹ دیا آپ پھر بھی پسند نہ آیا ۔
آخرانہوں نے دیا فت کیا کہ آپ کی کیا حرکات ہیں کہا کہ والدصاحب بوقت انتقال وصیت فرماگئے تھے کہ میرے انتقال کے بعد جومیرے دوست احباب میرے تعزیت کو آئیں ان کو اونچی جگہ بٹھلانا بھاری کپڑے پہننا نرم اورشیریں کلام کرنا قیمتی کھانا کھلانا سو اس سے زیادہ تو میرے پاس لباس نہ تھا جس کو آپ دیکھ رہے ہیں اوراس مچان سے زیادہ اونچی جگہ اور کوئی میرے یہاں نہیں جہاں آپ بیٹھے تھے اور روئی اورگڑ سے زیادہ کوئی نرم اورشیریں چیز نہیں اور جناب میرے گھر میں کتے سے زیادہ قیمتی اورکوئی جانور نہیں اس لئے وہ آپ کے لئے کٹوادیا وہ غریب یہ سن کر بھاگے ایسے ہی یہ لوگ اخلاق کے معنی سمجھتے تھے اس لئے اہل حق کو ان کی صفائی پربدنام کرتے ہیں ۔
غرض ! عرف بدل گیا الٹا معاملہ ہورہا ہے کہ بداخلاقی خوش اخلاقی ہوگئی اورخوش اخلاقی بداخلاقی ہوگئی معلوم بھی ہے کہ اخلاق کہتے ہیں اعمال باطنہ کی تحصیل یا اصلاح کو اور اعمال باطنہ بھی وہ جو مامور بہ یا منہبی عنہ ہیں جیسے ریا ہے کبرہے حب جاہ ہے حب مال ہے کینہ ہے بغض ہے عداوت ہے حسد وغیرہ ہیں یہ ایک دوسرے کی ضد ہیں جوماموربہ ہیں وہ اخلاق حمیدہ ہیں اور جومنہی عنہ ہیں وہ اخلاق رذیلہ ہیں ۔ سومدرسہ توبنتا ہے اعمال ظاہرہ کی درستی کے لیے ان میں علماء رہتے ہیں اور خانقاہ بنتی ہے اخلاق باطنہ کی درستی کیلئے ان میں شیوخ رہتے ہیں وہاں تربیت کا اہتمام ہوتا ہے اوریہ سب شریعت ہے اس کے بعد اگرطریقت نام ہے اصلاح اخلاق باطنہ کا تب تووہ جزو ہے شریعت کا جسے کتاب الصلوٰۃ اس کا ایک جزو ہے کتاب الزکوٰۃ اس کا ایک جزو ہے اور اگرطریقت نام ہے تدابیراصلاح کا تو وہ ایک طریقہ ہے ، علاج کامثل دوسرے تدابیر طبیہ کے اور اس صورت میں مخصوصا ومقصودا مامور بہ نہیں پس مشائخ محققین جواعمال کا علاج كرتے ہیں وہ بعینہ مامور نہ نہیں نہ وہ اصل مقصود ہے بلکہ مقصود ہے بلکہ مقصود کا ذریعہ ہیں جومحض تدابیر کے درجہ میں ہے جیسے طبیب جسمانی کی تدابیر کہ ان کوکوئی
بدعت نہیں کہہ سکتا ۔ اسی طرح مشائخ کی تجویزات اوران کے علاج کو جوکہ محض تدابیر کے درجہ میں ہیں نہ عبادت کہہ سکتے ہیں نہ بدعت اوریہ ایک فن مستقل ہوگیا ہے اسی کانام عام اصطلاح میں تصوف رکھ دیا گیا اور اسی کانام فن تربیت ہے جوبڑا نازک ہے کیونکہ بدوں مجاہدہ اور ریاضت کے کہ خاص تدابیر کانام ہے ان رذائل کا علاج مشکل ہے اوریہ سب شیخ کی رائے پرہے بدوں شیخ مبصرومجرب کے اصلاح اور تربیت مشکل ہے یہ ہے حقیقت اس فن کی ۔
اب بتلایئے تجربہ کار پر کیا اعتراض ہوسکتاہے ایک شخص کہتے تھے کہ میرے اندرکبرہے میں نے کہا کہ آثار بیان کرو جیسے طبیب آثار سن کر مرض کی حقیقت کو سمجھتا ہے آثار بیان کرنے پر معلوم ہوا کہ کبرنہیں خجلت ہے میں نے کہا کہ خجلت ہے کبرنہیں کبراور چیزہے خجلتااور چیز ہے یہ ایک مثال ہے تجربہ اورعدم تجربہ کے فرق کی بس یہ تھی حقیقت اس فن کی جس میں لوگوں نے اینچ پینچ لگاکر ہوابنا رکھا ہے اوربعض ناواقفوں نے ایسی چیزوں کوجن کا درجہ محض تدابیرکا ہے اصل اور مقصود بنا رکھا ہے اور بذریعہ مقصود کو مقصود سمجھتے ہیں جو غلطی عظیم ہے ۔