ایک سلسلہ گفگو میں فرمایا کہ جی چاہتا ہے کہ علماء کو علاوہ پڑھنے پڑھانے کے اور بھی کوئی کام آنا چاہئے جو ذریعہ معاش ہوسکے
بدون ظاہر ی وجہ معاش کے لوگ ان کو ذلیل سمجھتے ہیں اس ذلت سے بچنے کے لئے مولویوں کو کوئی کام دستکاری سیکھنا چاہے پھر سیکھنے کے بعد چاہے اس سے کام نہ لیں مگر سیکھ لیں ضرور اہل علم کی ذلت کسی طرح گوارہ نہیں ہوتی آج کل بد دینوں کا زمانہ ہے اہل دین اور اہل علم دین کو نظر
تحقیر سے دیکھتے ہیں بحمد اللہ یہاں پر آکر تو سب کا مزاج درست ہوجاتاہے
خرد ماغوں کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ طلبہ اور اہل علم میں بھی اسپ دماغ
ہیں جواہل دینا خصوص اہل مال سے اس قسم کا برتاؤ کرتا ہوں جس کو لوگ خشکی کہتے ہیں اس کی وجہ ہی یہ ہے کہ ان کے دماغوں میں خناس بھرا ہے
ان کے دماغوں کو درست کرتا ہوں اگر تمام اہل علم اور اہل دین ان کے دروازوں پر جانا چھوڑ دیں تو ایک دن میں ان کے دماغ صحیح ہوجائیں گے اور
پھر یہ خود ان کے دووازوں پر آنے لگیں خصوص اہل مدارس اگر ذرا صبر سے کام لیں تو یہ خرابی نہ رہے بڑے پیمانے پر اہل دنیا خصوص اہل مال کے دماغ
درست ہوجائیں مجھے اہل علم کی ذلت ایک لمحہ کیلئے گوارا نہیں مگردل کس
طرح ڈال دوں ۔
