ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اہل علم کی شان ہی جدا ہوتی ہے مچھلی شہر میں میرا قیام تھا باہر سے ایک عالم آ گئے وہ عالم ہمسے عقائد میں اختلاف رکھتے تھے جمعہ کا دن تھا وہ عالم ممبر کے پاس مصلے کے قریب بیٹھے تھے امام ان کے معتقد تھے میں ذرا فاصلہ سے بیٹھا تھا اب جماعت کا وقت آیا امام نے ان صاحب سے کہا کہ آپ نماز پڑھا ئیے مگر لوگوں کا خیال اسکے مخالف تھا کہ میں نماز پڑھاؤں ایک تحصیلدار صاحب کع عوام کے اس خیال کا اطلاع تھی انہوں نے مجھ سے کہا کہ آپ نماز پڑھائیں میں نے کہا با آواز بلند کہا کہ مجھ کو امام کی اجازت نہیں یہ میں نے اس لئے کہا کہ امام سنکر شاید اجازت دیدں کیونکہ وہ عالم غیرمقلد تھے اور وہ ممبر کے قریب پہنچ چکے تھے امام تو کچھ کھڑا کر دیا کہ آپ نماز پڑھائیں میں کھڑا ہو گیا اور یہ خیال کیا کہ اب نماز نہ پڑھانے میں اندیشہ فتنہ کا ہے میں خطبہ اور نماز پڑھائی وہ مولوی صاحب بیچارے اپنی جگہ پر جا بیٹھے کلام اسپر تھا کہ علم کی شان ہی اور ہوتی ہے یہ تحصیلدار صاحب عالم تھے اس لئے مناسبت سے بے تکلف بغلوں میں ہاتھ دے کر مجھ کو کھڑا کر دیا اسی طرح شاہجہانپور میں ایک کورٹ انسپکٹر صاحب سے ملاقات ہوئی بظاہر انکی وضع خلاف ثقات تھی مگر انکی طرف میرے دل کو کشش ہوتی تھی میں متعجب تھا کہ کیوں کشش ہوتی ہے معلوم ہوا کہ عالم ہیں کتنا ہی بڑا آدمی ہو مگر عالم ہو اس میں بے تکلفی اور تواضع ضرور ہو گی ـ
