( ملفوظ 495)اہل حاجت کی فوری ضرورت فورا پوری کرنا

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بعض لوگ خلوت کی حفاظت کے لئے کواڑ بند کر کے بیٹھتے یہں اور میں لڑابھڑ کر جلوت میں خلوت کی حفاظت کر لیتا ہوں میں اس قسم کی حفاظت کو پسند نہیں کرتا اس لئے بعض اہل حاجت کو فوری ضرورت ہوتی ہے تو اسوقت اسکو نظر آنا چاہیئے فوری حاجت کی مثال یاد آئی ایک مرتبہ غالبا نصف شب کا وقت تھا پڑوس میں ایک مکان سے آواز آئی کراہنے کی برداشت نہ کر سکا اٹھ کر باہر آیا اس مکان کے دروازہ پر پہنچ کر پوچھا معلوم ہوا کسی کے درد زہ ہو رہا ہے مکان پر واپس آ کر تعویذ لکھ کر لے گیا سو ضرورت کے وقت تو اگر کوئی آدھی رات بھی آواز دے ذرہ برابر گرانی نہیں ہوتی جان بھی حاضر ہے مگر طریقہ سے لیکن اگر کوئی کام موخر ہو سکتا ہے یا پہلے سے کر سکتا تھا مگر نہیں کیا اسکی رعایت کرنے کو جی نہیں چاہتا باقی ضرورت کے وقت کبھی تساہل نہیں کرتا ـ