(ملفوظ 220)اہل عشق کی شان جدا ہوتی ہے :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اہل عشق کی شان ہی جدا ہوتی ہے یہ حضرات بظاہر اس عالم میں نظر آتے ہیں مگر معنی اس عالم میں نہیں ہوتے ہروقت محبت میں غرق رہتے ہیں نہ ہنسنے کا خیال نہ رونے کا نہ کسی سے ملنے کا شوق نہ کھانے کمانے کی فکر عشق ایسی ہی چیز ہے اور یہ حالت بدون عشق نہیں ہوسکتی یہ عشق ہی کا خاصہ ہے کہ سوائے محبوب کے سبکو فنا کردیتا ہے اسی کومولانا رومی فرماتے ہیں
عشق آن شعلہ است کوچوں برفروخت ہرچہ جزمعشوق باقی جملہ سوخت ،
تیغ لا در قتل غیر حق براند درنگر آخر کہ بعد لاچہ ماند ،
ماند الا اللہ و باقی جملہ رفت مرحبا اے عشق شرکت سو زرفت
گویا اسی کا ترجمہ گلزار ابراہیم میں کیاگیا ہے
عشق کی آتش ہے ایسی بد بلا دے سوا معشوق کے سب کو جلا
اس ہی لئے میں کہا کرتا ہوں کہ یہ حضرات مغلوب ہونے کی وجہ سے معزور ہیں ان کو اپنی ہی خبر نہ تھی ان پرملامت کرکے اپنی عاقبت خراب کرنا ہے کسی کو کیا خبر کہ ان پرکیا گذرتی ہے ۔