فرمایا کہ ایک صاحب کا خط آیا ہے اس میں لکھا ہے اس میں کہ مجھ کو اپنی اہلیہ سے بیحد محبت ہے اسقدر محبت مزموم تو نہیں میں نے لکھ دیا کہ اس سے زیادہ بھی مزموم نہیں مگر ایک شرط ہے میں نے اس شرط کے متعلق بھی اس سے دریافت کیا ہے کہ اگر کسی موقع پر اس کی رعایت کرنے میں دین کا ضرر ہو تو اس وقت آپ کس کو ترجیح دیں گے دین کو دین کو یا اھلیہ کو اس پر فرمایا کہ نہ معلوم بیچاری بیوی ہی کو کیوں تختہ مشق بنایا جاتا ہے اگر بیوی کے متعلق یہ شبہ ہے کہ وہ غیر اللہ ہے تو یہ خود بھی عین اللہ نہیں غیراللہ ہی ہیں کہ جو محبت اہلیہ سے ہے اگر وہی محبت اپنی ذات سے ہو تو وہاں پر بھی تو یہ ہی شبہ ہونا چاہیئے مگر اس کا کبھی سوال نہیں کیا خیر جو سوال کیا یہ بھی غنیمت ہے اس سے دین کی فکر کا تو پتہ چلا اور فکر دین وہ چیز ہے کہ یہ جب ہوتی ہے تو مصلح کا بھی جی چاہتا ہے کہ یہ بھی بتادو یہ بھی سکھا دو اور اگر طلب اور فکر نہیں تو پھر مرو اور پڑو گڑھے میں ـ
