ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ فرق باطلہ اور اہل بدعت کی وجہ سے اہل حق کو کلام کرنا پڑا ورنہ اہل حق فی نفسہ اس قسم کے کلام کرنے کو پسند نہیں کرتے اس لئے کہ سلف سے منقول نہیں اور میں بھی پسند نہیں کرتا مجھ کو ہمیشہ سے اس قسم کے قیل و قال سے نفرت ہے مگر بیچارے اہل حق کو اہل باطل کی گڑبڑ کی وجہ سے بولنا پڑا اور یہ ان کا بولنا ضرورت کی وجہ سے تھا یعنی اول اہل بدعت نے دین میں شبہات نکالے اہل حق نے ان کو دلیل کے ساتھ دفع کیا جس سے صورت مناظرہ کی پیدا ہو گئی اور علم کلام مدون ہو گیا پس ایسے مسائل میں اہل حق مدعی نہیں بلکہ اہل بدعت مدعی ہیں اور اہل حق ان کے مقابلہ میں مانع ہیں پھر اضطرار کے ساتھ ہی یہ بھی تھا کہ اس کلام و مناظرہ کے کچھ حدود اور شرائط بھی تھے مگر بعض متاخرین نے اس کو بڑھا لیا اس حد تک رکھا نہیں اور تامل و تجربہ سے معلوم ہوا کہ اس قسم کے غیر ضروری قیل و قل کا کوئی نتیجہ بھی نہیں نکلتا ۔ بے کار وقت کھوتے ہیں اسی قیل و قال کو دین سمجھنے لگے اور اپنی فکر چھوڑ دی حالانکہ دوسروں کے درپے تو جب ہو جب اپنی حالت پر پہلے اطمینان ہو چکا ہو پہلے اپنی خبر لینی چاہئے حیدرآباد والے ماموں صاحب فرمایا کرتے تھے کہ بیٹا کہیں دوسروں کی جوتیوں کی حفاظت کی بدولت اپنی گٹھڑی نہ اٹھوا دینا ۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ دوسرے کی اصلاح اس قدر ضروری نہیں جس قدر اپنے دین کی حفاظت ضروری ہے ۔ پھر فرمایا کہ آج کل کے مناظروں میں اصول بے اصول کچھ نہیں دیکھا جاتا بس ہانکے چلے جاتے ہیں خواہ سیدھی ہو یا الٹی دیکھنے والے سمجھتے ہیں بڑا بولنے والا ہے اور خود مناظرین کو بھی یہ ہی پچ ہوتی ہے کہ حق منہ سے نکلے یا ناحق کسی طرح ہیٹی نہ ہو ۔ نیز اس شغل میں ایک خرابی یہ ہے کہ بعضے مضامین جن کو رد کیا جاتا ہے ایسے ہوتے ہیں کہ ان کا اظہار ہی گو رد ہی کے لئے مضر ہے ان کا اخفاء اور امانت ہی مناسب ہوتا ہے فرمایا کہ اظہار کر کے رد کرنے پر ایک حکایت یاد آئی ایک ولائتی ہندوستان آیا تھا اتفاق سے چور یا ڈاکوؤں سے مقابلہ ہوا اس میں زخمی ہو گیا ایک ہندوستانی نے غریب الوطن مسافر سمجھ کر اپنے مکان پر رکھ کر مرہم پٹی کی اور ہر قسم کی خبر گیری کی تندرست ہو گیا جب رخصت ہوا تو کہا کہ ہمارا یہ پتہ ہے تم اگر کبھی ہمارے وطن آئے گا ہم بھی تمہاری خدمت کرے گا تم ہمارا محسن ہے ہم کو بڑا آرام پہنچایا ایک عرصہ کے بعد بعض اتفاقات سے ایسا ہوا کہ یہ ہندوستانی اس طرف پہنچ گیا ۔ خیال ہوا کہ یہاں پر ہمارا ایک دوست ہے لاؤ اس سے ملاقات کر لیں تلاش کر کے اس ولائتی کے مکان پر پہنچا وہ ولائتی بڑا خوش ہوا اور ان کو مکان پر بٹھلا کر اور جلدی واپسی کا وعدہ کر کے کہیں چلا گیا گھر والوں نے دریافت کیا کہ آپ کون ہیں اور کہاں سے آئے ہیں اس نے سب واقعہ بیان کیا کہ میں ان کا دوست ہوں اور ہندوستان سے آیا ہوں اور میں نے اسکی یہ خدمت کی تھی گھر والوں نے کہا کہ تم اگر اپنی خیریت چاہتے ہو تو فورا واپس چلے جاؤ اسی لئے کہ وہ کہا کرتے ہیں کہ اگر کبھی ہمارا ہندوستانی دوست آ گیا تو ہم اس کو اسکے احسان کا بدلہ دے گا اس طرح سے کہ اس کو زخمی کر کے پھر اس کا علاج کرائے گا ھل جزاء الاحسان الا الاحسان تاکہ احسان کا بدلہ ہو سکے یہ سن کر بے چارا بھاگا ۔ سو ان مضامین کا اظہار کر کے ان کو رد کرنا بالکل ایسا ہی ہے جیسا اس ولائتی کا زخمی کر کے علاج کرانا مناظرین کو یہ طرز چھوڑ دینا چاہئے یہ طرز خطرہ سے خالی نہیں
