فرمایا کہ ایک درویش سے میری گفتگو ہوئی انہوں نے کہا کہ اس آیت کا ترجمہ کیا جاوے ۔
لکل امۃ جعلنا منسکا ھم ناسکوہ فلا ینازعنک فی الامر ، مقصود یہ تھا کہ اس آیت میں کسی سے نزاع کی ممانعت ہے یعنی کوئی کسی سے تعارض نہ کرے جو صلح کا صاصل ہے میں نے کہا کہ لا یناز عنک فرمایا الا تنازعہم نہیں فرمایا تو اہل باطل کو اہل حق سے جھگڑا کرنے سے منع فرمایا گیا ہے اہل حق کو اہل باطل کے ساتھ جھگڑنے سے منع فرمایا اس پر شاہ صاحب خاموش رہ گئے اسی طرح میرٹھ میں ایک صاحب درویش شیخ الہی بخش صاحب رئیس میرٹھ کے خاندان کے پیر آئے ہوئے تھے والد صاحب اس زمانہ میں ان کے یہاں مختار ریاست تھے میں بھی اتفاق سے وہاں پروالد صاحب کے پاس گیا ہوا تھا ان درویش سے بھی ملنے گیا ان درویش کو یہ معلوم ہوا کہ یہ طالب علم ہے محبت سے بلا کر بٹھایا اور مثنوی کے اشعار کی شرح مولانا جامی کے یہ اشعار پڑھے :
چندا روز یکہ پیش از روز و شب ٭ فارغ از اندوہ و آزاد از طلب
متحد بودیم باشاہ وجود حکم غیریت بکلی محو ، بود
( ہم نے ہرامت کے واسطے ذبح کرنے کا طریق مقرر کیا ہے جہ وہ اس طریق پر ذبح کرتے تھے تو ان لوگون کو چاہئے کہ اس امر میں آپ جھگڑا نہ کریں ان لوگوں کو چاہئے کہ آپ سے جھگڑا نہ کریں آپ ان سے جھگڑا نہ کریں اس عالم نا سوت سے پہلے کیا اچھا زمانہ تھا کہ ہم بغیر کسی غم کے اور بغیر ضرورت طلب کے شاہ وجود کے ساتھ متحد تھے اور غیریت کا حکم بالطیہ محو تھا ) ان اشعار سے بزعم خود و حدۃ الوجود کو ثابت کرنا چاہا میں نے کہا کہ اس میں تو بودیم فرماتے ہیں ہستیم نہیں فرماتے جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اب تغائر ہے تو اس سے تو وحدۃ الوجود کی نفی ہوئی بس مبہوت رہ گئے کچھ نہیں بولے اور اس تمام خاندان میں اس کی شہرت ہوگی مجھ کو خیال ہوا کہ شاید ان لوگوں کو ناگوار ہوگا اس لئے کہ ان کہ پیرہیں لیکنم عجیب بات ہے کہ اس کا عکس ہوا چنانچہ شیخ صاحب کے بتیجھے غلام محی الدین مرحوم جو کہ پر پہلو سے ریاست کے روح و روان تھے انہوں نے مجھ کو قصدا بلایا اور واقعہ کی تفصل پوچھی میں نے سب بیان کردیا تو سنکربہت خوش ہوئے اور کہا کہ خوب کیا اور میں نے بھی ان دوریش کے کہنے پراتنا جواب دیا مگر خود ابتدا نہیں کی اور نہ کوئی نے ادبی کی اور ان کے اشعار پڑھنے سے متاثر میں بھی ہوا مگر حدود شرعیہ کی حفاظت ضروری تھی اس لئے جواب دینا پڑا ۔
