ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل اس راہ سلوک میں راہ زن بہت پیدا ہو گئے ہیں ـ لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں اور جو خود گمراہ ہو وہ دوسے کو راستہ بتلائیگا ـ ایک بدعتی دوکاندار پیر کا واقعہ ہے کہ ایک شخص پولیس میں ان کا مرید تھا وہ کسی جرم میں ماخوذ ہو کر لین حاضر ہوا اور اتفاق سے میرے ایک عزیز بھی حاضر ہوگئے ـ اس شخص نے اپنے پیر کو خط لکھا تھا کہ یہ صورت حال ہے دعا کیجئے اور ان عزیز نے بھی ان سے اپنے لئے دعا کرنے کو لکھوا دیا ـ پیر نے جواب میں لکھا کہ آجکل پولیس پر خدا کا غضب ہے اور اسکا انتظام میرے سپرد ہے اور ہر جمعرات کو پیران کلیر میں اولیاءاللہ کی کمیٹی ہوتی ہے اور یہ معاملات پیش ہوتے ہیں اور ظالم نے میرا نام بھی لکھا کہ وہ بھی کمیٹی میں شریک ہوتا ہے ـ اس کمیٹی میں پیش کر دیا جائے گا ـ اب جو حکم ہو ـ اور قرائن سے اس خرافات کے لکھنے کی یہ مصلحت تھی کہ جب مجھ کو یعنی اشرف علی بزریعہ اس عزیز کے یہ جواب معلوم ہوگا جس میں میری ولایت بھی ہوتی ہے تو میں خوش ہو کر ان کو ولی کہوں گا ـ تو وہ عزیز بھی معتقد ہو جائیں گے ـ ان عزیز نے مجھ کو لکھا کہ اب کی جمعرات کو وہ معاملہ پیش ہوا تھا یا نہیں اور کیا حکم ہوا ـ میں نے ان عزیز کو ڈانٹا کہ کیا وہیات ہے اور تعجب ہے تم کو ایسی بات کا یقین آگیا اور حقیقت تو یہ ہے کہ اگر عبدیت میسر ہو جائے تو طبیعت ابدالیت سب اس پر قربان ہیں ـ
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عبدیت کی صفت کو رسالت پر مقدم کیا گیا ہے ـ چناچہ تشہد میں عبدہ ورسولہ کہا گیا ہے باقی اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ نبوت سے ولایت افضل ہے جیسا بعض کوشبہ ہو گیا ہے اور منشا اشتباہ کا یہ ہوا کہ ولایت میں توجہ الی الحق ہوتی ہے اور نبوت میں توجہ الی الحق اور ظاہر ہے کہ اول افضل ہے ثانی سے مگر محققین نے نبوت ہی کو ولایت سے افضل کہا ہے اور اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ نبوت میں صرف توجہ الی الحق نہیں ہوتی بلکہ دونوں کا مجموعہ ہے ـ جسمیں اصل مقصود توجہ الی الحق ہے اور توجہ الی الحق تابع اور چونکہ وہ بھی مامور بہ ہے اس لئے وہ توجہ الی الحق بھی مضر نہیں بلکہ توجہ الی الحق ہی ہے ـ گو لون ( رنگ ) اس کا دوسرا ایک صاحب نے عرض کیا کہ جب وہ صورۃ توجہ الی الحق مضر نہیں تو پھر علی قلبی وانی استغفر اللہ کیوں فرمایا ـ فرمایا کہ صورۃ تو اس طرف توجہ رہی اس کو غین فرمایا گیا اور استغفار سے اس کو صاف کیا گیا جیسے آئینہ کے اندر بھی محبوب کی صورت نظر آ سکتی ہے اور کسی حکمت کی وجہ سے محبوب کا حکم ہوا کہ دو گھنٹے ہم کو بلاواسطہ دیکھو اور ایک گھنٹہ آئینہ میں ہمارے عکس کو دیکھو تو واقع میں وہ بھی محبوب ہی کی رویت ہے مگر صورۃ بواسطہ حجاب کے ہے اور امتثال امر کے وقت رویت بلا واسطہ سے بھی قریب میں بڑھی ہوئی ہے اس کو ایک مثال سے سمجھئے محبوب نے کہا کہ مجلس سے اٹھ کر آم لاؤ وہاں دو عاشق ہیں ایک تو نہیں گیا کہ میں قرب سے محروم ہوں گا ایک نے کہا میں لاتا ہوں اور وہ آم لینے چلا گیا بظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ جو نہیں گیا وہ مقرب ہے مگر واقع میں مقرب وہ ہے جو چلا گیا اس کو رضا بھی میسر ہے ـ بقا بھی میسر ہے اور اوپر معلوم ہوچکا ہے کہ ولایت نبوت کا جز ہے اور کل سے کیسے افضل ہو سکتا ہے اور یہ بھی معلوم ہوچکی ہے کہ یہ جز یعنی توجہ الی الحق دوسرے جز کو مضر نہیں مگر با وجود اس کے عاشق طبعا چاہتا ہے کہ یہ حجاب بھی نہ ہو بلکہ بعض اوقات وہ غایت غیرت سے اپنے کو بھی حجاب سمجھ کر اس کو مٹانا چاہتا ہے اس کو کہتے ہیں ـ
غیرت از چشم برم روئے تو دیدن نہ دہم گوش را نیز حدیث تو شنیدن ندہم
اسی کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میرے قلب پر بھی غین یعنی حجاب ہوتا ہے اور میں اس کے لئے استغفار کرتا ہوں پس صورۃ جو کمی ہو جاتی ہے اس کا تدارک اس سے کیا جاتا ہے ـ میں آج کل حضرات چشتیہ کے حالات دیکھ رہا ہوں ـ ان کے یہاں ایسے تھے ہی نہیں کہ نبوت افضل ہے ـ ولایت سے یا ولایت افضل ہے ـ نبوت سے ان کے یہاں تو صرف یہ ہے کہ آخرت کا خوف پیدا کرو کام میں لگو ـ عمل کرو ـ خدا کے سامنے آؤ خشیت پیدا کرو ـ محبت پیدا کرو ـ زیادہ وقت ان حضرات کا ذکر اور فکر میں گزرتا تھا یہ لوگ فانی تھے بالکل اس مصداق تھے ـ
عشق آں شعلہ است کو چوں بر فروخت ہر چہ جز معشوق باقی جملہ سوخت
( عشق وہ آگ ہے کہ یہ جب بھڑکتی ہے تو معشوق کے سوا سب کو جلا دیتی ہے )
