( ملفوظ 132 ) ایک دن ایک مہینہ کا ہونے کی صورت میں پانچ نمازوں کا حکم

ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت ایک مقام ہے ـ وہاں پر سال بھر میں ایک دن ایک مہینہ کا اور ایک رات ایک مہینہ کی ہوتی ہے ـ وہاں پر اوقات نماز کے متعلق کیا حکم ہے ـ نماز کس طرح پڑھی جائے گی فرمایا کہ بعض علماء نے اس کا جواب دیا ہے کہ وقت کا اندازہ کر کے اور حساب لگا کر نمازیں ادا کریں ـ ان علماء نے یہ حکم اس سے سمجھا ہے کہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ جب دجال آئے گا تو ایک دن سال بھر کا ہوگا ـ اس کے متعلق حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وقت کا اندازہ کر کے نماز ادا کرو اور بعض علماء نے اس مقام پر اس دن میں پانچ ہی نمازوں کا حکم دیا ہے اور یوم دجال پر قیاس کا جواب دیا ہے کہ وہ عارضی بات ہے اور یہاں پر دوام ہے لہزا قیاس مع الفارق ہے پھر فرمایا کہ لوگ ان اختلافات سے گھبراتے ہیں اور علماء پر اعتراض کرتے ہیں ـ مگر یہ گھبرانے کی چیز نہیں ـ معلوم بھی ہے کہ اختلاف کا ہونا دلیل ہے ـ اہتمام تحقیق کی اور اختلاف کا نہ ہونا دلیل ہے ـ عدم اہتمام کی اور بجز اسلام کے اور کسی مزہب میں یہ تحقیق نہیں ـ علماء اسلام نے ہر بات پر بحث کر کے حقیقت کو اپنی قدرت کی حد تک صاف کر دیا ہے ـ دوسرے مزہب میں ہے ہی کیا جس کی تحقیق کریں ـ اور پھر تحقیق سے اختلاف ہو ـ ایک مثال عرض کرتا ہوں دو وکیلوں کی پاس مقدمہ لے جائیے اگر ان میں شان تحقیق ہوگی ـ ضرور اختلاف ہوگا ـ دو طبیب حاذق کے پاس مریض کو لے جائیے اگر ان میں شان تحقیق ہوگی ضرور اختلاف ہو گا بعض بد عقل ہر اختلاف کو مزموم سمجھتے ہیں جو بات خوبی کی ہے وہ بد فہموں کے نزدیک نقص کی ہے ـ جناب رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت احکام میں قواعد بیان کر دیئے ـ جزئی احکام نہیں بتلائے ـ تو ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں ضرور اختلاف ہوگا جیسے پارلیمنٹ میں عمر کے متعلق الگ الگ احکام نہیں تجویز کئے جاتے ـ کلیات تجویز کر دئیے جاتے ہیں ـ انہیں کے انطباق کے متعلق ماتحت عدالتوں میں اور وکلاء میں اختلاف ہو جاتا ہے ـ