ایک نو وارد صاحب نے قبل از مجلس حضرت والا سے گفتگو کی اور اسی وقت کی گاڑی سے واپس ہو گئے اس کے بعد حضرت والا نے مجلس کی اطلاع لوگوں کو کرائی اہل مجلس کے آ جانے پر فرمایا کہ آج ایک مہمان کی وجہ سے مجلس کی اطلاع میں تاخیر ہوگئی علی گڑھ سے ایک رسالہ نکلتا ہے یہ صاحب اس کے اڈیٹر ہیں یا شاید اخبار ہے اچھی طرح خیال نہیں رہا ان کے ایک سوال پر میں نے تقریر کی کہتے تھے کہ اسوقت کی تقریر سے میں بہت سے سوالوں سے بچ گیا قریب قریب جو کچھ ذہن میں تھا سب کے جوابات ہو گئے اور کہنے لگے کہ اگر اجازت ہو تو یہ تقریر چھپوا دوں میں نے کہا کہ پہلے لکھ کر مجھ کو دکھلا لیا جاوے کہنے لگے کہ انشاءاللہ غلطی نہ ہوگی میں نے کہا کہ اگر میری طرف نسبت فرمائیں تو مجھ کو ضرور دکھلالیں اس لئے کہ بعض اوقات ایک لفظ کے بدل جانے سے کچھ کا کچھ ہو جاتا ہے فرمایا کہ اس سے بھی جی خوش ہوا کہ بیچاروں نے قدر کی اور سمجھ گئے جس کی زیادہ بناء اعتماد ہے طبعی بات ہے کہ جن لوگوں پر اعتماد ہوتا ہے ان کی ہر بات مقبول ہوتی ہے الحمداللہ ابھی تک اکثر مسلمانوں میں دین سے تعلق اور دین کے جاننے والوں پر اعتماد ہے تعلق پر یاد آیا ایک وکیل صاحب تھے کانپور میں بیمار سن کر ان کے مکان پر عیادت کے لئے گیا تھا قسم کھا کر کہنے لگے کہ اگر وائسرائے بھی میرے مکان پر آتے تو مجھ کو اتنی خوشی نہ ہوتی الحمداللہ ایسے ایسے مسلمان ابھی موجود ہیں جن کو دین اور اہل دین سے تعلق ہے ـ
