ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ پہلے مرتا ض لوگ بڑے بڑے طویل زمانہ تک حبس دم کرتے بوجہ ضعف قوی کرنے سے بھی ایسا نہیں ہوتا ، ایک فقیر نے حبس دم کا انتظار کیا تھا نا کامیاب رہا دماغ خراب ہوگیا اب قوی بوجہ کمزوری کے ایسی مشقتوں کی برداشت نہیں کرسکتے پہلے زمانہ میں توہندو بڑی بڑی محنتیں کرتے تھے اب ان میں بھی صاحب اثرنہیں گو ایسا اثر مطلوب نہیں حضرت سلطان نظام الدین قدس سرہ کے زمانہ میں ایک جوگی تھا اس نے یہ مشق کی تھی کہ مریض پرنظرڈال کرمرض سلب کرلیتا تھا ایک مرتبہ حضرت سلطان نظام الدین صاحب قدس سرہ پرایک دورہ پڑا جس میں بے ہوشی جاتی تھی ہوش آجانے پرخدام نے عرض کیا کہ اگر اجازت ہوتو فلاں جوگی کےیہاں جومرض کو سلب کرلیتا ہے حضرت کا پلنگ لے چلیں دورہ ہوگیا اور بہیوشی طاری ہوگئی مریدین کو پیرسے عشق کا درجہ ہوتا ہی بےخلوص ہوتا ہے پیرکی تکلیف برداشت نہیں کرسکتے آپس میں مشورہ کرکے اور پلنگ اٹھا کراس جوگی کے مکان پرجا رکھا اورخلاف کرنے کا تدارک معانی چاہئے سے سوچ لیا اس نے دیکھا کہ اتبا بڑا شخص میرے مکان پرٰآیا پھولا نہیں سمایا فورا سب کام چھوڑا اس طرف متوجہ ہوا اور فورا مرض کو سلب کرلیا حضرت ایک دم اٹھ کربیٹھ گئے اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ کوئی مرض ہواہی نہ تھا دیکھا کہ جوگی کا مکان ہے سمجھ گئے کہ یہ لوگ محبت کی وجہ سے میرے تکلیف کو برداشت نہیں کرسکے اس لئے کسی کو کچھ نہیں کہا بلکہ اس جوگی کی طرف متوجہ ہوئے اور دریافت فرمایا کہ یہ بتلاؤ کہ یہ تاثیر جوتمہارے اندر ہے یہ کیا ہے اور عمل کی بدولت ہے اس عرض کیا کہ میرے پاس صرف ایک چیز ہے جومیرے گرونے مجھ کو تعلیم کی تھی اور وہ یہ کہ کہ کہا تھا کہ ہمیشہ نفس کے خلاف کرنا مطلب یہ کوئی نفس کا چاہانہ کرنا بس میرے پاس صرف یہی ایک عمل ہے اس کی بدولت یہ تصرف کرتا ہوں اورمرض کوسلب کرلیتا ہوں یہ سن کرحضرت سلطان جی نے دریافت فرمایا اچھا یہ بتلاؤ کہ تمہارا نفس مسلمان ہونے کوچاہتا ہے عرض کیا کہ نہیں فرمایا پھرگرو کی تعلیم پرکہاں عمل رہا ادھر تویہ فرمایا اور ادھر توجہ کی نتیجہ یہ ہوا کہ اس نے ایک دم کلمہ پڑھ لیا اورمسلمان ہوگیا آپ نے درحقیقت اس پربھی عمل کیا ھل جزاء الاحسان الا الاحسان اس نے آپ کی مرض جسمانی کو سلب کیا تھا آپ نے اس کے مرض باطنی کو یعنی کفر کو سلب فرمایا احسان کا بدلہ احسان ہوگیا ۔
