خواجہ صاحب نے عرض کیا کہ حضرت کے یہاں یہ بھی ایک طریق اور اصول ہے کہ ایک ایک بات الگ الگ طےہوتی ہے یہ بڑا ہی اچھا اصول ہے فرمایا کہ جی ہاں اگر چار باتوں کی ایک دم تحقیق شروع ہوجائے تو خلط مبحث ہوجائے پتہ ہی چل کرنہ دے کہ کیا ہورہا ہے بعض لوگ ایسا کرتے ہیں کہہ ایک ہی خط میں دو مضمون لکھ کر بھیج دیتے ہیں میں ان میں سے کسی مضمون کا بھی جواب نہیں دیتا۔ یہ لکھ دیتا ہوں کہ ایک خط میں ایک مضمون لکھو جب اس کا جواب پہنچ جائے تب دوسرامضمون لکھو یہ باتیں اصولی ہیں مثلا ایک شخص کو چند مقدمات عدالت میں پیش کرنا ہے ایک مال کا ایک فوجداری کا کیا تو کیا وہ ایک ہی درخواست دونوں کے متعلق دے سکتا ہے ہرگز نہیں حاکم کہے گا کہ الگ الگ درخواست دو اس کا راز یہی ہے کہ خلظ مبحث سے پریشانی نہ ہواصولی بات سے کبھی انسان کو پریشانی نہیں ہوتی پریشانی جب کبھی ہوگی بے اصولی سے ہوگی ۔
