ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ جس زمانہ میں مولوی عبدالرب صاحب دہلوی کے اہتمام سے جامع مسجد سہارنپور کی تعمیر ہورہی تھی ایک دفعہ مولوی صاحب چندہ کے لئے بمبئ گئی تھے وہا سے چندہ وصول کرکے سہارنپور واپس آرہے تھے راستہ میں منگور میں مغرب کی نماز کو اترے نماز پڑھ کررقم کی ہمیانی جس میں غالبا اڑھائی ہزار روپے اور اشرفیاں تھیں مسجد ہی میں بھول گئے اور بہلی میں سوار ہوکر روانہ ہوگئے کچھ دور جاکر وہ ہمیانی یاد آئی تو بہت پریشان ہوئے اور پھر مسجد کو لوٹے یہاں یہ قصہ ہوا کہ ایک غریب چوکیدار محلہ میں رہتا تھا وہ مسجد میں تیل بتی کردیتاتھا اس نے اپنے لڑکے کو روشنی کرنے کےلیے مسجد میں بھیجا وہاں یہ ہمسانی نظر پڑی وہ اٹھا کراپنے باپ کے پاس لایا باپ کےپاس نے کسی سے ذکر نہیں کیاحفاظت سے رکھ لی جب مولوی صاحب مسجد میں واپس آئے دیکھا کہ ہمیانی ندار د بہت ہوئے مسجد میں کھڑے ہوکر اعلان کیا کہ وہ رقم مسجد کی تھی اگرکسی نے تصرف کیا سخت وبال میں مبتلا ہوگا اور اگرکوئی ادا کردے اس کو ایسا ایسا ثواب ہوگا اور پانچ سوروپیہ انعام کے طور پراس کودوں گا لوگ جمع ہوگئے وہ شخص بھی اس مجمع میں حاضر تھا کچھ بولا نہیں مولوی صاحب سےعرض کیا میرے یہاں شب کو قیام کیجئے اطمینان سے تلاش کرینگے جب صبح ہوئی ہمیانی لاکر سامنے رکھ دی مولوی صاحب نے پانچ سو ورپیہ نکال کردینا چاہا اس نے کہا حضرت ہرمسلمان پرمسجد کی خدمت فرض ہے نہ کہ مسجد کی رقم خود لوں مولوی صاحب بے حد متاثر ہوئے اور اس کو بہت دعائیں دیں اور سہارنپور تشریف لے گئے کانپور میں منگلور کے رہنے والے ایک صاحب منشی قادر بخش نہر میں ملازم تھے انہوں نے مجھے یہ روایت کی سبحان اللہ ایمان جس کو قوی ہوتا ہے اس کے مقابلہ میں روپیہ ہے ہی کیا چیز ایسے موقع پر کوئی قوت کافی نہیں ہوسکتی بجزایمان کے اور یہ حوصلہ مسلمان ہی کا ہوسکتاہے اس حوصلہ پرایک اور قصہ یا دآیا ایک مسلمان شخص کہیں کا سفر کررہے تھے کسی اسٹیشن ریلوے پر بڑا نوٹ دیکر ٹکٹ خرید ے ٹکٹ بابوجلدی میں دس روپیہ حساب سے زائد دیدیئے اس وقت تو انہوں نے دیکھا نہیں ریل میں آکربیٹھ گئے پھر جو حساب کیا تو دس روپیہ زائد تھے انہوں نے فورا ٹکٹ کلکٹر کو جا کر واپس کئے اس بابو نے جوکہ ہندو تھا اس کا صاف اقرار کیا گیا اگر یہ واقعہ ہندو کا ہوتا تو وہ ہرگز واپس نہ کرتا یہ مسلمان ہی کاکام ہے اورحوصلہ ہے۔
