ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اجکل ایک مذہب نکلا ہے صلح کل اور وہ لوگ یہ شعر پڑھا کرتے ہیں
حافظا گروصل خواہی صلح کن باخواص و عام یا مسلمان اللہ اللہ بابرہمن رام رام
یہ شعر حافظ کاتوہے نہیں مگر حافظ کا نام لگ گیا کیا دنیا میں یہ ہی ایک حافظ تھے اور سب ناظرہ خواں تھے یہ مذہب جاہل ہندو صوفیوں کا ہے کہ وہ تصوف میں کفرواسلام کی کچھ قید نہیں سمجھتے تھے چنانچہ ان کی رائے کامل بزرگوں کے متعلق بھی یہی ہے اس پر حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب گنج مراد آبادی رحمہ اللہ کا ایک واقعہ یاد آگیا مولانا سے اکثر لوگ تبرک مانگا کرتے اب کہاں تک دیں اس لئے مولانا نے ایک ہندو عطار کے یہاں کچھ گولیاں ہاضمہ کی بنواکر رکھدی تھیں جو شخص تبرک مانگتا وہی گولیاں بتادی جاتیں کہ وہاں سے خرید کردم کرالو مولانا پریشان استغراق غالب تھی کبھی کبھی گولیاں دیتے وقت ان گولیوں پربجائے دم کرنے کے تھوک بھی دیتے تھے مگر باوجود اس کے ان گولیوں کو ہندو تک بعض ہندؤں نے ایسے ہندؤں پر اعتراض کیا کہ تم مسلمان کا تھوک کھاتے ہو ان ہندوں نے جواب دیا کہ یہ مسلمان نہیں یہ تواوتار ہیں ان کا کیا ہندو کیا مسلمان ، عجیب بات ہے مولانا نے ساری عمر تکمیل اسلام کی کوشش کی اور ان کے نزدیک مولانا مسلمان ہی نہ تھے تو اس اعتقاد کا منشاء وہی جہل تھا کہ درویشی میں کفر واسلام کی کوئی قید نہیں ۔
