(ملفوظ 284)ایک صاحب کا حضرت والا کودق کرنا :

خواجہ صاحب نے عرض کیا کہ حضرت فلاں صاحب سے صبح جوغلطی ہوگئی تھی اس کے متعلق میرے واسطے سے کچھ عرض کرنا چاہتے ہیں فرمایا بہت اچھی مگر سب سے اول ان سے یہ پوچھئے کہ آنے کے وقت پریشان کیوں کیا عرض کیا کہ غلطی ہوئی اب یہ پوچھئے کہ ایسی غلطی کا دوسرے پرکیا اثر ہوتا ہے وہ متاذی ہوتا ہے یا نہیں عرض کیا متاذی ہوتا ہے اب پوچھئے اس کا تدارک کیا ہے عرض کیا کہ آئندہ نہیں کروں گا اب پوچھئے کہ کیا اس سے تدارک ہوجائے گا بہت ہی خوش فہم معلوم ہوتے ہیں عرض کیا آپ وہ بات بتلادیجئے گا جس سے تدارک ہوجائے فرمایا جس نے ایذا پہنچائی ہے وہ سوچے مجھ کو بتلانے کی کیا ضرورت ہے میں پہلے بتلادیتا تھا اب نہیں بتلاتا میں دماغ سوزی کروں اور راستہ بتلاؤں اور وہ اس پرکہیں کہ میرے ساتھ بڑی سختی برتی گئی خواجہ صاحب نے عرض کیا کہ مجھ سے مشورہ لیتے ہوئے فرمایا کہ آپ مشورہ نہ دین مشورہ ایسے شخص سے لینا چاہئے جوواسطہ نہ بنا ہوآپ کا مشورہ تومیرا ہی مشورہ ہوگا آپ بوجہ توسط سے من وجہ میرے ساتھ ملحق ہین اورمن وجہ ان کے ساتھ ملحق ہیں اس لئے آپ کو مشورہ نہیں دینا شاہئے دوسری بات یہ ہے کہ اگر کسی سے مشورہ لیں تو خود سوچ کرمجھ سے اپنی طرف سے کہیں اگر کوئی گڑبڑ ہوتو اس کواپنی طرف منسوب کریں مجھ سے یہ ظاہر کریں کہ فلاں سے مشورہ لیا یا فلاں نے مشورہ دیا عرض کیا کہ میں معافی چاہتا ہوں آئندہ ایسا پھر نہیں کروں گا فرمایا اس پراعتراض ہوچکا جس کا ابھی جواب نہیں ملا پھر کیوں اس کا اعادہ کیا بہت ہی خوش فہم ہیں اس پرتو اعتراض ہوچکا جس کا ابھی جواب نہیں ملا پھر کیوں اس کا اعادہ کیا بہت ہی خوش فہم ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عقل کے پچھئے لٹھ لئے پھرتے ہیں اب ان سے یہ پوچھئے کہ اس کا اعادہ کیوں مگر پوچھنے پربھی یہ صاحب خاموش رہے فرمایا اگرجواب نہیں دیتے چھوڑیئے کوئی ہمارا کام تھوڑا ہی ہے آپ بیٹھئے کیوں پریشان ہوئے ۔ آپ کو اندازہ ہوگیا ہوگا ان لوگوں کی کس قدر رعایتیں کرتاہوں اور یہ مجھ کو کس قدر ستاتے اور دق کرتے ہیں مجھ کو بدنام کرنا آسان ہے مگر اپنی خوش فہمی کو نہیں دیکھتے ۔