( ملفوظ 493)ایک صاحب کے مشورہ مانگنے پر حضرت کا جواب

ایک بہت طویل خط آیا جس میں کسی معاملہ میں مشورہ چاہا تھا اور لکھا تھا کہ اپنے قلب سے مشورہ فرما کر لکھیں جواب میں حضرت والا نے تحریر فرمایا کہ میرا قلب کا یہی مشورہ ٹھرا ہے کہ دعاء کی جاوے سو دل کرتا ہوں کہ جو مصلحت ہو آپ کے قلب میں آ جاوے ـ