ایک صاحب کی غلطی پر حضرت والا نے تنبیہ فرماتے ہوئے جواب طلب فرمایا کہ اس غلطی کا جواب دو وہ صاحب خاموش رہے اس پر فرمایا کہ جواب نہ دینا بھی بہت ہی ایزا رسانی کی بات ہے ایک خیر خواہ بصورت سوال دوسرے کو اس کے جہل سے نکالنا چاہتا ہے اور وہ اس میں جواب سے اس کی امداد نہیں کرتا ـ آدمی پوچھنے پر جواب دے جواب نہ دینے کا مرض بھی عام ہو گیا ہے ـ اس پر بھی وہ صاحب کچھ نہ بولے ـ خاموش رہے ـ حضرت والا نے فرمایا کہ ارے میاں جب تم نہ بولنے کی قسم کھا کر آئے تھے تو یہ بتلاؤ کہ دوسرا اصلاح کس طرح کرے ـ اپنا تو حساب لگا لیا کہ جاؤں گا یہ کہوں گا ، یہ ہوگا ، وہ ہوگا مگر دوسرے کی بات کا تو جواب دے دو تمہارے نزدیک دوسرے کا سوال لغو ہے بیکار ہے ـ عرض کیا کہ غلطی ہوئی فرمایا کہ بندہ خدا اتنا دق کر کے کہا پہلے سے یہی کہہ دیا ہوتا خدا معلوم لوگوں کا فہم کہاں گیا ـ یہاں پر جتنے آتے ہیں منتخب ہو کر ایسے ہی آتے ہیں ـ
