ایک طالبعلم نے عرض کیا کہ حضرت مجھ کو مہتمم مدرسہ دیوبند نے ایک غلطی پر مدرسہ سے خارج کر دیا ـ حضرت والا ایک سفارشی خط تحریر فرمادیں کہ وہ مجھ کو مدرسہ میں داخل فرمالیں فرمایا کہ مجھ کو واقعہ کا علم نہیں کہ وہ غلطی کیا ہے جس کی وجہ سے تم کو مدرسہ سے نکالا گیا ـ دوسرے یہ بتاؤ کہ مدرسہ کے قواعد ہی کے ماتحت فرمایا کہ تو اب سفارش کا مطلب یہ ہوگا کہ قواعد کوئی چیز نہیں ـ جس کو جی چاہا خارج کر دیا ـ جس کو جی چاہا داخل کر لیا اور بڑی بات تو یہ ہے کہ واقعہ نہ معلوم ہونے کی وجہ سے یہ معلوم نہیں کہ وہ غلطی ثقیل ہے یا ثقیل نہیں آیا وہ کسی کہ لئے مضر ہے یا مضر نہیں ـ نیز آئندہ احتمال اس غلطی کے ہونے کا ہے یا نہیں ـ اس کو مہتمم مدرسہ ہی سمجھ سکتے ہیں تم ایک عرصہ مدرسہ میں رہ چکے ہو ـ وہ تمہاری حالت سے بخوبی واقف ہیں ـ سفارش کس بنا اور کس اطمنان پر کروں ـ دوسرے یہ کہ میں سفارش کے باب میں بہت محتاط ہوں اگر کوئی کام واجب ہو تب تو سفارش مطلقا جائز ہے ـ باقی مباح میں بھی آجکل میاں سفارش کو جائز نہیں سمجھتا ـ مخاطب پر ایک قسم کا بار ڈالنا ہے جو شرعا بھی جائز نہیں ـ البتہ اگر ایسی سفارش ہو کہ یقین ہو کر مخاطب بالکل از درہیگا چاہے عمل کرے یا نہ کرے یہ شفاش بے شک جائز ہے اور یہ سفارش حقیقت میں مشورہ کی ایک فرع ہے ـ باقی جس سفارش میں یہ احتمال بھی ہو کہ مخاطب خلاف نہ کر سکے گا ـ ایسی سفارش کرنا گویا کہ تنگ کرنا ہے ـ اسکو میں شرعا جائز نہیں سمجھتا ـ پھر ان طالب علم کی طرف حضرت والا متوجہ ہو کر نہایت شفقت آمیز لہجہ میں فرمایا کہ میں ایک بات بتلاتا ہوں ـ محض تمہاری ہمدردی اور خیر خواہی کی بناء پر وہ یہ کہ سفارش کا تو اکثر اثر بھی اچھا نہیں ہوتا ـ سب سے بہتر یہ ہے کہ تم خود جا کر ہاتھ پاؤں جوڑ کر معافی چاہو اس سے اکثر اوقات اچھا اثر ہوتا ہے ـ دل پگھل جاتا ہے اور سفارش پر اگر داخل ہو بھی گئے اور پھر کوئی نہ کوئی بات ہوگئی تو سفارش کرنے والے پر بھی الزام کہ صاحب ایسے شخص کی سفارش کی پھر کہاں سے سفارش لاؤگے ـ اور یہ ایسی چیز ہے کہ ہر وقت اپنے پاس ہے فورا معافی چاہ لی جاؤ یہی کرو انشاءاللہ تعالٰی اثر اچھا ہوگا ـ اور میں دعا بھی کرتا ہوں ـ
13 محرم الحرام 1351 ھ مجلس بعد نماز جمعہ
