ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فریایا کہ آج کل تو دہریت اور نیچریت کا پورا غلبہ ہے قلوب پرایسا زہریلا اثرہوا ہےکہ کسی امتی پرتو کیا اطمینان ہوگا اوراس کا کیا احترم ہوگا خودحضورﷺ کی عظمت بھی قلوب سے نکلتی جارہی ہے اور مقصود تمام تر موقوف ہے اسی عظمت و محبت پرصحابہ کرام کے کام کا راز یہی ہے کہ حضورﷺ کے عاشق تھے ان کے قلوب اللہ اور رسول کی محبت وعظمت وخشیت سے پرتھے اب بھی جہاں کام ہوتا ہے اہل اللہ کی محبت سے ہوتا ہے جس کی بدولت ان حضرات کی حکومت قلوب پرہوتی ہے بخلاف ظاہری سلاطین کے ان کی حکومت محض جسم پرہوتی ہے ان کے محکومیں محض آلات حرب کے محکوم ہوتے ہیں بخلاف اہل اللہ کے خدام اور محکومین کے کہ ان کی شان ہی جدا ہوتی ہے ان کے جوکہہ دیاجاتا ہے وہ دل سے کرتےہیں کسی کام سے کسی بات سے انکارنہیں ایسی اطاعت رسم پرست کبھی قیامت تک بھی نہیں کرسکتے ۔
