(ملفوظ 147)آج کل جمہوریت کا زور ہے :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل جمہوریت کا زور ہے اس کی ترجیح میں کہتے کہ شخصیت اس لئے مضر ہے کہ ایک شخص کا کچھ اعتبار نہیں دین فروشی کردے ملت فروشی کردے قوم فروشی کردے اسی خیال سے جمہوریت قائم کرنے کی چیزہے لیلکن غور کرنے کی چیز ہے لیکن غور کرنے سے اس کا حاصل یہ نکلتا ہے کہ یہ نکلتا ہے کہ تمہارے تمدن میں نالائق بھی حاکم ہوسکتا ہے جس میں یہ احتمال ہوسکتے ہیں اور ہمارا مسلک یہ ہے کہ بادشاہ لائق ہو ایسے شخص کا انتخاب کرو جس پریہ احتمالات ہی نہ ہوں اور جیسے شبہات تم نے شخصیت میں نکالے ہیں ایسے شبہات جمہوریت میں بھی ہوسکتے ہیں جن کے انسداد کے لئے تم نے جماعت کا انتخاب کیا ہے چنانچہ ایسے واقعات بھی کثرت سے ہیں اب اس کے بعد دیکھ لوکہ کونسی بات عقل کے موافق ہے اور کون نہیں دوسری بات یہ ہے کہ رعایا پرجوہیبت ہوتی ہے وہ شخصیت ہی سے ہوتی ہے جمہوریت اور جماعت کی ایسی ہیبت نہیں ہوتی اور ان درجہ کی ترغیب کام کی ہوسکتی ہے اس لئے کہ طبعا اس کا بھی خاص اثر ہوتا ہے کام کرنے والوں پر کہ ہمارے اس کام سے امیر یا سردارخوش ہو اس سے ان کا دل بڑھتا ہے اور جمہوریت میں کوئی خوش ہونے والا معین نہیں اس لئے کسی کی خوشی کا اثر ہی کیا ہوگا آج ایک جماعت انتخاب میں ہیں کل دوسری ہے بس اورشخصیت میں رعایا اور حاکم میں خاص تعلقات ہوتے ہیں جس کواہل ذوق اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں ۔