ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل کے کامل ایسے ہیں کہ باوجود ناقص ہونے کے اپنے نقص پر پردہ ڈالتے ہیں گو اخیر میں ان ہی کے اقوال و افعال سے نقص ظاہر ہوتا ہے ـ جیسے ایک شخص سے کسی نے کہا کہ خط لکھ دو کہ میری ٹانگ میں درد ہے ـ اس نے کہا کہ لکھنے کا ٹانگ سے کیا تعلق کہ میرا لکھا ہوا میں ہی پڑھ سکتا ہوں ـ دوسرا نہیں پڑھ سکتا ـ مگر یہ نہیں کہا کہ مجھ کو لکھنا نہیں آتا گو اخیر ظاہر ہو گیا ـ اس بد خطی پر ایک قصہ یاد آیا کہ ایک عالم متقدمین سے ہیں بہت بڑے شخص ہیں ـ ان کا قلم نہایت بد خط تھا ـ ایک روز بازار گئے تو اپنے سے بھی برے خط کی ایک کتاب نظر پڑی اس کو گراں قیمت پر خریدا ـ طاعنین کے جواب کے واسطے کہ لوگوں کو دکھاؤں کہ مجھ سے بھی زیادہ بدخط لوگ ہوئے ہیں ـ مگر گھر پہنچ کر معلوم ہوا کہ وہ بھی میرا ہی ابتداء کا خط ہے ـ مگر سادگی دیکھئے کہ خود ہی اپنے اس قسم کے کچے چٹھے کھول رہے ہیں ـ آجکل کو مدعیوں کی طرح اپنے نقص کو چھپایا نہیں ـ
