( ملفوظ 423) آج کل کے لیڈر

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل جو رہبران قوم بنے ہوئے ہیں ـ ان کی یہ حالت ہے کہ کام کے لئے تو دوسرے اور نام کے لئے یہ زمانہ خلافت میں ان لوگوں نے احکام اسلام کی ذرہ برابر پروا نہیں کی جو اپنی سمجھ میں آیا کیا جومنہ میں آیا کہا ـ بہت کم لوگ ایسے تھے جو نیک نیت تھے ورنہ اکثر تو حکومت اور عہدوں کی فکر میں تھے ـ کثرت سے ایسے ہی لوگ زیادہ تھے ـ ہزاروں مسلمانوں کو بلا وجہ کٹوا دیا یہ نفسانی اغراض بھی بری بلا ہیں ـ اللہ تعالی بچائے موپلوں کی قوم کو ان لیڈروں ہی نے برباد کرایا جوشیلی اور اشتعال آمیز تقریریں کر کے ان کو بھڑ کا دیا ـ غیور قوم عرب لوگ ان کی باتوں میں آکر گورنمنٹ کا مقابلہ کر بیٹھے ـ جب ان پر مصیبت آئی پھر ان لیڈر یا رہبران قوم میں سے کوئی بھی ان کی مدد کو نہ پہنچا ـ ایسے خود غرض لوگوں کی بالکل ایسی ہی مثال ہے جیسے ایک قصائی کا انتقال ہو گیا تھا اس کی بیوی روتے ہوئے کہہ رہی تھی کہ ہائے اس کے بیل کون لے گا ـ تو ایک بولا میں لوں گا ہائے اس کی چھری کون لے گا کہا کہ میں لوں گا ہائے اس کا مال کون لے گا کہا کہ میں لوں گا ـ ہائے اس کے ذمہ اتنا قرض تھا وہ کون دے گا تو وہ کیا کہتا ہے کہ بولو بھائی کس کا نمبر ہے ـ یہ ہی حالت ان لیڈروں کی ہے کہ مال و جاہ کے قوانین کے تو خود مالک ہوئے اور مصیبت اٹھانے کو دوسرے غریب ہوئے ـ ایک نئی روشنی والے صاحب نے مجھ سے کہا تھا کہ آپ اس تحریک کیوں شریک نہیں ہوتے میں نے کہا کہ یہ کام موقوف ہے ـ قوت پر اور قوت موقوف ہے بقاء اتفاق پر خواہ وحدت ارادیہ ہو یا وحدت قہریہ ہو اور یہ ہم میں مفقود اور جب تک یہ نہ ہو کام نہیں ہو سکتا ـ دوسرے یہ کہ میں ان اصول مخترعہ کا کار بند نہیں ہو سکتا ـ اصول شرعیہ کے ماتحت رہ کر کام کر سکتا ہوں اور اسی کو تم لوگ روڑے اٹکانا سمجھتے ہو حتی کہ اس وقت یہ کہا جاتا تھا کہ یہ مسائل کا وقت نہیں ـ کام کا وقت ہے حالانکہ ہر کام کے کچھ شرائط اور اصول ہوتے ہیں ـ دیکھو نماز جیسی بڑی چیز مگر حدود قیود سے بھی خالی وہ بھی خالی نہیں ـ ان حدود کی تقسیم کے متعلق میں نے حیدر آباد دکن کے وعظ میں کہا تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم میں دو شانیں تھیں ـ شان نبوت اور شان سلطنت اس کے بعد خلفاء راشدین بھی دونوں کے جامع تھے مگر اب یہ دونوں شانیں دو گروہ پر تقسیم ہوگئیں ـ شان نبوت کے مظہر علماء ہیں اور شان سلطنت کے مظہر سلاطین اسلام اب گر یہ سلاطین علماء سے استغناء کرتے ہیں تو حضور ہی کی ایک شان سے اعراض لازم آتا ہے اور اگر علماء سلاطین کی مخالفت کرتے ہیں تو اس سے بھی حضور ہی کی ایک شان سے اعراض لازم آتا ہے ـ اب صورت دونوں کو جمع کرنے کی یہ ہے کہ سلاطین سے تو میں یہ کہتا ہوں کہ وہ اپنے حدود میں کوئی حکم اس وقت نافز نہ کریں ـ جب تک علماء اہل حق سے استفتاء نہ کر لیں اور علماء یہ کہتا ہوں کہ وہ اس نفاز کے بعد اس پر کاربند ہوں اگر فلاں کو صورت نکل آئے اور ان کی ڈوبتی ہوئی کشتی ساحل پر جا لگے ـ ورنہ اللہ ہی حافظ ہے ـ غرض یہ سیاسی کام علماء کا نہیں علماء کا جو کام ہے وہ ان سے لینا چاہے اور یہ کام لیڈر کریں البتہ علماء سے حجروں میں آ کر مسائل پوچھیں اور ان کے موافق کام کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ عدم قدرت کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ وہ فعل جائز نہ ہو پھر اگر احکام ک وپامال کر کے کامیابی بھی ہوگئی تو وہ مسلمانوں اور اسلام کی کامیابی تھوڑا ہی ہوگی ـ وہ کامیابی تو بد دینوں اور ملحدوں کی ہوگی ـ جن سے آئندہ بھی خطرہ ہے کہ ملکی مصالح کی بناء پر نہ معلوم اہل اسلام اور احکام اسلام کے ساتھ کیا برتاؤ کریں ـ جو اس وقت شریعت مقدسہ کے احکام کو نظر انداز کئے ان کے ساتھ ہیں اگر یہ دین سے بے خبر ہیں تو ان کا کیا اعتبار اور اگر باخبر ہیں تو علماء کے ساتھ ان کا اعتقاد اسی وقت تک ہے جب تک کہ یہ دین پر ہیں ـ اگر ذرا شبہ ہو جائے کہ یہ مذہب کے خلاف ہے فورا اعتقاد جاتا رہے اور ساتھ چھوڑ دیں ـ غرض موجودہ حالت میں کوئی صورت بھی ہے ایسی نہیں کہ عوام ان کی ساتھ رہیں ـ