ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل اسی نیچریت نے لوگوں کو زیادہ بد اعتقاد بنا دیا ہر بات کو عقل پر جانچے ہیں بیچاری عقل بھی مخلوق ہی ہے یہ کہاں تک تیر لگائے گی اور کیا خالق کے احکام کا احاطہ کر سکتی ہے اس کا مبلغ پرواز ایک حد تک ہے اس سے آگے وہ معطل ہے احکام کے راز اسرار کو عقل سے کوئی کیا سمجھ سکتا ہے مثلا جبر و قدر ہی کے مسئلہ کو دیکھ لیجئے وہاں تک کسی کی عقل کی رسائی نہیں ہے اس لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں خوض و بحث سے روک دیا ہے کسی ایسے ہی مسئلہ کے متعلق کسی نے ایک بزرگ سے دریافت کیا تھا کیا خوب فرمایا کہ ـ عے
اکنوں کرا دماغ کہ پر سد ز باغبان ، بلبل چہ گفت و گل چہ شنید و صباچہ کرو
بس اتنا سمجھ لینا کافی ہے کہ وہ حاکم ہونے کی ساتھ حکیم بھی ہیں جو کچھ کرتے ہیں اسی میں بندہ کے لئے مصلحت ہوتی ہے ـ
