(ملفوظ 109)آج كل سجاده نشینوں کو حکام دین کی خبر نہیں:

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل بزرگوں کے مزارات اور ان کے تبرکات کے بارہ میں نہایت ہی بد احتیاطی سے کام لیا جارہاہے جائز ناجائز حلال حرام کی قطعاپرواہ نہیں کی جاتی اوریہ ان لوگوں کے افعال ہیں جوسجادہ نشین ہیں اور اپنے کوشیخ المشائخ کہلاتے ہیں مگردین اور احکام دین کی مطلق نہ خبرہے اور نہ پرواہ ہے پھر خدامگر معلوم بزرگی اور ولایت کس چیزکا نام رکھ چھوڑا ہے چنانچہ ان سجادہ نشینوں کے پاس جس قدر یہ تبرکات ہیں جن پرانہوں نے قبضہ کر رکھا ہے ظاہر ہےکہ قاعدہ فقہیہ سے واقف تو ہیں نہیں یہ ابتداء میں کسی کی ملک خاص تھے پھراس میں مناسخہ (یعنی وراثت دروراثت ) جاری ہوکر بہت سے لوگ اس میں شریک ہوگئے تو ان سب کی ملک ہوئے پھر نہ سب کی رضانہ ہررضا معتبر مگر باوجود اس کے خلاف شرع ان سجاد نشینوں نے ان کو بدوں کسی حق کے محبوس کررکھا ہے ان کو تو یہ گناہ ہوا اور جولوگ ان کی زیارت کرتے ہیں یہ اس گناہ کے معین ہیں کیونکہ اگر کوئی بھی زیارت نہ کرے تو پھر یہ سلسلہ ہی بند ہوجائے غرض اس جماعت میں حقوق العباد کا مطلق خیال نہیں کیا جاتا خدامعلوم خداتعالی ٰ کا خوف دل سے نکل ہی گیا یہ ہیں آج کل کے سجادہ نشین اور شیخ المشائخ کہ خود گمراہ اور دوسروں کو گمراہ کرنے والے ۔