( ملفوظ 302)اجنبی شخص کا ہدیہ اور حضرت کا کمال ادب

ایک نو وارد نا شنا سا صاحب آئے انہوں نے حضرت والا کی خدمت میں کھجوریں پیش کر کے عرض کیا کہ یہ مدینہ طیبہ کی ہیں ـ حضرت والا نے فرمایا کہ ایک کھجور لے سکتا ہوں ـ بالکل نہ لینے کو مدینہ کی بے ادبی سمجھتا ہوں ـ آپ نے ہدیہ دینے میں غلطی کی ـ جس سے بے تکلفی نہ ہو ـ میں اس سے ہدیہ لیا نہیں کرتا ـ آپ کو دینا نہ چا ہئے تھا اب مجھ کو دونوں پہلوؤں کے جمع کرنے میں تنگی ہوئی پھر فرمایا کہ بعض مرتبہ آدمی دو پاٹ کے بیچ میں آجاتا ہے ـ اسی پر بعض نے گھبر اکر کہہ دیا ـ
درمیان قعر دریا تختہ بندم کردہ بازمی گوئی کہ دامن تر مکن ہشیار باش
( دریا کی تہ میں مجھ کو باندھ کر ڈال دیا ہے اور حکم یہ دیا جاتا ہے کہ خبردار دامن تر بھی نہ ہو )
مگر ایسے موقع پر وہ شخص نہیں گھبرائے گا جو جامع بین الاضداد ہوگا ـ بحمد اللہ کوئی ایسا موقع پیش نہیں آتا جس پر مجھ کو گھبراہٹ ہو ـ اس کے قبل بھی ایسا ہی واقعہ پیش آیا کہ ایک صاحب جو میرے مخالف تھے وہ مدینہ طیبہ کی کھجوریں لائے ـ اور بطور ہدیہ مجھ کو دیں ـ میں نے ایک کھجور لے لی اور مزاحا کہہ دیا کہ ایک مدینہ کی ہے اور سب تمہاری ہیں ـ غرض بین الاضداد ہونے کی ضرورت ہے ـ پھر کچھ دشواری پیش نہیں آتی ـ