ایک نو وارد نا شنا سا صاحب آئے انہوں نے حضرت والا کی خدمت میں کھجوریں پیش کر کے عرض کیا کہ یہ مدینہ طیبہ کی ہیں ـ حضرت والا نے فرمایا کہ ایک کھجور لے سکتا ہوں ـ بالکل نہ لینے کو مدینہ کی بے ادبی سمجھتا ہوں ـ آپ نے ہدیہ دینے میں غلطی کی ـ جس سے بے تکلفی نہ ہو ـ میں اس سے ہدیہ لیا نہیں کرتا ـ آپ کو دینا نہ چا ہئے تھا اب مجھ کو دونوں پہلوؤں کے جمع کرنے میں تنگی ہوئی پھر فرمایا کہ بعض مرتبہ آدمی دو پاٹ کے بیچ میں آجاتا ہے ـ اسی پر بعض نے گھبر اکر کہہ دیا ـ
درمیان قعر دریا تختہ بندم کردہ بازمی گوئی کہ دامن تر مکن ہشیار باش
( دریا کی تہ میں مجھ کو باندھ کر ڈال دیا ہے اور حکم یہ دیا جاتا ہے کہ خبردار دامن تر بھی نہ ہو )
مگر ایسے موقع پر وہ شخص نہیں گھبرائے گا جو جامع بین الاضداد ہوگا ـ بحمد اللہ کوئی ایسا موقع پیش نہیں آتا جس پر مجھ کو گھبراہٹ ہو ـ اس کے قبل بھی ایسا ہی واقعہ پیش آیا کہ ایک صاحب جو میرے مخالف تھے وہ مدینہ طیبہ کی کھجوریں لائے ـ اور بطور ہدیہ مجھ کو دیں ـ میں نے ایک کھجور لے لی اور مزاحا کہہ دیا کہ ایک مدینہ کی ہے اور سب تمہاری ہیں ـ غرض بین الاضداد ہونے کی ضرورت ہے ـ پھر کچھ دشواری پیش نہیں آتی ـ
